کشمیر: آدھار کارڈ میں اردو کا مذاق، ’جموں وکشمیر‘ کو ’جممو اند کشمیر‘بنا دیا گیا

Aug 23, 2017 06:19 PM IST | Updated on: Aug 23, 2017 08:17 PM IST

سری نگر۔  وادی کشمیر میں یونیک آئیڈنٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) کی جانب سے اہلیان وادی کو جاری کردہ آدھار کارڈوں میں ریاست کی سرکاری زبان ’اردو‘ کا انتہائی تمسخر اڑایا گیا ہے۔ تاہم اس سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ریاستی حکومت نے آدھار کارڈوں پر گذشتہ اڑھائی برس سے سرکاری زبان (اردو) کی  جا رہی تضحیک کا کوئی سنجیدہ نوٹس لیا نہ متعلقہ مرکزی محکمہ ’یو آئی ڈی اے آئی‘کی آدھار کارڈوں پر تحریر شدہ اردو میں املا کی فاش غلطیوں کی طرف توجہ مبذول کرانے کی زحمت اٹھائی۔ اگرچہ وادی میں جاری کردہ ہر ایک آدھار کارڈ میں املا کی غلطیوں کی بھرمار پائی جارہی ہے، لیکن املا کی ایک غلطی جو ہر ایک آدھار کارڈ میں پائی جا رہی ہے، وہ یہ ہے کہ ریاست کا نام ’جموں وکشمیر‘ کے بدلے ’جممو اند کشمیر‘ تحریر کیا گیا ہے۔

یو این آئی نے جب یہ معاملہ ’یو آئی ڈی اے آئی ‘ کی نوٹس میں لایا تو محکمہ نے یہ کہتے ہوئے اپنا پلہ جھاڑ لیا کہ ’آدھار کارڈوں میں غلط اردو کے استعمال کا معاملہ کبھی ہماری نوٹس میں نہیں لایا گیا‘۔ یو آئی ڈی اے آئی علاقائی دفتر چندی گڑھ میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر برائے جموں وکشمیر کلبھوشن گویل نے یو این آئی کو بتایا ’آدھار کارڈوں میں اردو زبان کے غلط استعمال کی ہمیں تاحال کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ اگر شکایت موصول ہوئی ہوتی ہم نے اصلاحی اقدامات بھی اٹھائے ہوتے‘۔ ایک مقامی سماجی کارکن اے ایچ وانی نے بتایا کہ آدھار کارڈوں پر ہماری سرکاری زبان کے ساتھ جو گھناؤنا مذاق کیا جارہا ہے، اس کے لئے سب سے زیادہ ذمہ دار ریاستی حکومت ہے۔ انہوں نے کہا ’میں جب یہاں ضلع انتظامیہ کے عہدیداروں کو آدھار کارڈوں میں پائی جارہی اردو املا کی فاش غلطیوں سے آگاہ کرنے کی غرض سے ڈی سی آفس گیا تو وہاں ایک عہدیدار نے اردو دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ معاملے پر لیڈری مت کریے‘۔ مسٹر وانی نے اس نامہ نگار کو اپنی اہلیہ کا اردو املا کی فاش غلطیوں سے پُر آدھارکارڈ بھی دکھایا۔ مذکورہ آدھار کارڈ میں ’زوجہ : عبدالحمید وانی‘ کے بدلے ’زوجہ: بعدل حمد وانی‘، پتہ: نئی کالونی گورنمنٹ بائز مڈل اسکول بتہ مالو‘ کے بدلے ’نیا کولونی گووونمنٹ بوس مددلی اسکول پاس بتمالوں‘ تحریر کیا گیا ہے۔

کشمیر: آدھار کارڈ میں اردو کا مذاق، ’جموں وکشمیر‘ کو ’جممو اند کشمیر‘بنا دیا گیا

مسٹر وانی نے ان فاش غلطیوں کو اردو کا جنازہ نکالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے حکومت اور حکومتی عہدیداروں کی اردو زبان کے تئیں روا رکھے جارہے رویے پر تعجب کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر وادی میں چالیس لاکھ آدھار کارڈ جاری کئے گئے ہیں، ان میں سے کسی ایک پر بھی اردو میں نام اور پتے صحیح تحریر نہیں کئے گئے ہیں۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے علاقائی ناظم ڈاکٹر اعجاز اشرف نے یو این آئی کو بتایا کہ آدھار کارڈوں کی اجرائی کے سلسلے میں شہریوں کی معلومات کے اندراج کے لئے اردو سے نابلد افراد کو مامور کردیا گیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ کسی ایک بھی آدھار کارڈ پر صحیح املا تحریر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ ریاست کی سرکاری زبان ’اردو‘ ہونے کے باوجود لاکھوں آدھار کارڈوں پر پائی جارہی اردو املا کی اغلاط کا آج تک کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔

ڈاکٹر اعجاز اشرف نے کہا ’آدھار کارڈ اجراء کرنے والے محکمے نے وادی میں آدھار کارڈوں کی اجرائی کا کام ٹھیکے پر دیا۔ ٹھیکیداروں نے کم وقت میں زیادہ کارڈوں کی اجرائی کو معیار پر ترجیح دی اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ تمام کے تمام جاری کردہ آدھار کارڈ املا کی فاش غلطیوں سے بھرے پڑے ہیں‘۔ مسٹر وانی نے ان فاش غلطیوں کو اردو کا جنازہ نکالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے حکومت اور حکومتی عہدیداروں کی اردو زبان کے تئیں روا رکھے جارہے رویے پر تعجب کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر وادی میں چالیس لاکھ آدھار کارڈ جاری کئے گئے ہیں، ان میں سے کسی ایک پر بھی اردو میں نام اور پتے صحیح تحریر نہیں کئے گئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز