جموں وکشمیر میں عارضی ملازمین کے مستقل کرنے سے تقریبآ 5 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچے گا

سری نگر۔ جموں وکشمیر میں محبوبہ مفتی کی قیادت والی پی ڈی پی، بی جے پی مخلوط حکومت کے قریب 60 ہزار عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے اقدام سے تقریباً پانچ لاکھ نفوس کو فائدہ پہنچے گا۔

Dec 23, 2017 05:05 PM IST | Updated on: Dec 23, 2017 05:05 PM IST

سری نگر۔ جموں وکشمیر میں محبوبہ مفتی کی قیادت والی پی ڈی پی، بی جے پی مخلوط حکومت کے قریب 60 ہزار عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے اقدام سے تقریباً پانچ لاکھ نفوس کو فائدہ پہنچے گا۔  پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ عارضی ملازمین کی مستقلی کے باضابطہ احکامات کے ساتھ محترمہ مفتی کا سب سے بڑا انتخابی وعدہ پورا ہوگیا ہے اور ریاست کی تاریخ میں پہلی بار بہ یک وقت قریب 60 ہزار عارضی ملازمین کی نوکریاں مستقل کرنے کا اقدام اٹھایا گیا ہے۔ ریاستی وزیر و سینئر پی ڈی پی لیڈر چودھری ذوالفقار علی نے بتایا ’حکومت کی جانب سے عارضی ملازمین کی مستقلی کے حوالے سے ایس آر او 520 سامنے لانے کے ساتھ ہی ڈیلی ویجروں، کیجول اور سیزنل ورکروں کے ایک لاکھ کنبے اور ان کنبوں سے جڑے 5 لاکھ نفوس مستفید ہوں گے۔

اس اقدام سے انتظامی خدمات میں بھی بہتری آئے گی‘۔ انہوں نے بتایا کہ مستقلی کے باضابطہ احکامات جاری ہونے کے ساتھ ہی محبوبہ مفتی کا سب سے بڑا انتخابی وعدہ پورا ہوگیا ہے۔ ایک اور پی ڈی پی لیڈر نے بتایا کہ یہ گزشتہ دو دہائیوں میں اٹھایا جانے والا سب سے بڑا اقدام ہے۔  انہوں نے بتایا ’عارضی ملازمین کو آج تک صرف سیاسی اغراض کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔ انہیں گزشتہ بیس برسوں کے دوران سینکڑوں مرتبہ سڑکوں پر آکر احتجاج کرنا پڑا۔ محترمہ مفتی ان عارضی ملازمین کی معاشی زبوں حالی سے واقف تھیں۔ انہوں نے ان عارضی ملازمین سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں انصاف فراہم کریں گی۔  آج انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا ’ریاست کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ جب قریب 60 ہزار ملازمین کی نوکریاں بہ یک وقت مستقل کرنے کا قدم اٹھایا گیا‘۔

جموں وکشمیر میں عارضی ملازمین کے مستقل کرنے سے تقریبآ 5 لاکھ افراد کو فائدہ پہنچے گا

پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ عارضی ملازمین کی مستقلی کے باضابطہ احکامات کے ساتھ محترمہ مفتی کا سب سے بڑا انتخابی وعدہ پورا ہوگیا ہے اور ریاست کی تاریخ میں پہلی بار بہ یک وقت قریب 60 ہزار عارضی ملازمین کی نوکریاں مستقل کرنے کا اقدام اٹھایا گیا ہے۔

اس دوران محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسکل ڈیولپمنٹ اور نوکریوں کی فراہمی ریاست کی ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ’ڈیلی ویجروں، کیجول اور سیزنل ورکروں کو راحت فراہم کرنے کے لئے ہم نے ان کی نوکریاں مستقل کرنے کا عمل شروع کرتے ہوئے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے‘۔ حکومتی اقدام سے عارضی ملازمین بھی پرجوش نظر آرہے ہیں۔ پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں گزشتہ 15 برسوں سے عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے ایک ملازم نے بتایا کہ حکومت کے اقدام نے انہیں ایک نئی زندگی دی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’میں گزشتہ پندرہ برسوں سے فیلڈ میں کام کررہا ہوں۔ یہ پندرہ برس پرخطر ترسیلی لائنوں کی مرمت اور انہیں ٹھیک کرنے میں گذرے ہیں۔

مجھے گزشتہ کچھ برسوں سے ماہانہ تنخواہ 4500 روپے ملتی تھی جو کسی بھی لحاظ سے کافی نہیں ہے۔ حکومتی اعلان سے مجھے ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھے گزشتہ پندرہ برسوں کی محنت کا پھل مل گیا ہے‘۔ دوسرے عارضی ملازمین کے بھی یہی خیالات تھے۔ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ میں گزشتہ 12 برسوں سے کام کررہے ایک ڈیلی ویجر نے بتایا ’مہنگائی کے اس دور میں ہمیں روزانہ کے اخراجات اور خاص طور پر بچوں کی تعلیم آگے بڑھانے میں بہت مشکلیں آرہی تھیں۔

Loading...

حکومتی اقدام سے ہمیں درپیش معاشی مسائل کے حل ہونے کی امید جاگ اٹھی ہے‘۔ خیال رہے کہ ریاستی حکومت نے گزشتہ روز ہزاروں کی تعداد میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں ، کیجول ، سیزنل اور دیگر ورکروں کی نوکریاں باقاعدہ بنانے کے سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا ۔ محترمہ مفتی نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’ہماری حکومت جموں وکشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں کام کررہے تقریباً ساٹھ ہزار ڈیلی ویجروں اور کیجول لیبروں کو پائیدار ذریعہ اور روزگار فراہم کے لئے انہیں مستقل نوکریاں فراہم کررہی ہے‘۔ ایس آر او کے تحت جن 9زمروں کے ملازمین کو فائدہ ہوگا ،ان میں یومیہ اجرت ، کیجول ، سیزنل ، ایچ ڈی ایف ، لوکل فنڈ ورکر ، این وائی سی ، لینڈ ڈونر ،آئی ٹی آئی تربیت یافتہ ورکر اور جے اینڈ کے سول سروسز ایکٹ 2010کے تحت اہلیت کی وجہ سے رہ گئے ایڈہاک اور کنٹریکچول ملازمین بھی شامل ہیں۔

پچھلے بجٹ سیشن کے دوران حکومت نے ایوان کے اندر مختلف زمروں کے تحت آنے والے کیجول ورکروں کی باقاعدگی کا عمل اگلے مالی سال کے اندر شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابو نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ وعدہ آج پورا کردیا ہے۔ ایس آر او520 کے مطابق ان ورکروں کو ان کی تعلیمی ، تکنیکی اور پیشہ وارانہ قابلیت پر سکلڈ اور نان سکلڈ زمروں میں درج کیا جائے گااور ان کی باقاعدگی و تنخواہیں ان کی تعیناتی کے عرصے کے ساتھ جڑا ہوگا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز