رامجس کالج تنازعہ: اے بی وی پی سے نہیں ڈرتی بمقابلہ اے بی وی پی کی حمایت کرتی ہوں

Feb 26, 2017 12:41 PM IST | Updated on: Feb 26, 2017 12:41 PM IST

نئی دہلی : دہلی یونیورسٹی کے رامجس کالج میں تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ تنازعہ اب سوشل میڈیا میں بھی چھا گیا ہے۔ اے بی وی پی کی حمایت اور مخالفت میں طلبہ اور دیگر لوگ فیس بک اور ٹوئٹر پر آ گئے ہیں۔ ہفتہ کو سوشل میڈیا پر اے بی وی پی نے نہیں ڈرتی اور 'میں اے بی وی پی کی حمایت کرتی ہوں والے پوسٹ چھائے رہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کو دہلی یونیورسٹی کے متعدد کالجوں کی طالبات نے اے بی وی پی کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر مہم شروع کی تھی ۔اس میں طالبات نے ہاتھ میں 'میں اے بی وی پی سے نہیں ڈرتی لکھا پوسٹر لے کر اپنی تصاویر شیئر کی تھیں۔ ان میں سے ایک لیڈی شری رام کالج کی طلبہ گرمیهر کور تھی۔ گرمیهر نے خود کو ایک شہید کی بیٹی بتایا تھا۔

رامجس کالج تنازعہ: اے بی وی پی سے نہیں ڈرتی بمقابلہ اے بی وی پی کی حمایت کرتی ہوں

اے بی وی پی کی مخالفت کے ساتھ ساتھ حمایت میں بھی ڈی یو کی کئی طالبات نے فیس بک وال پر آپ کی تصویر شیئر کی۔ ان تصاویر میں لکھا تھا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف 'میں اے بی وی پی کی حمایت کرتی ہوں۔ اے بی وی پی کی مخالفت اور حمایت میں فیس بک پر چلائی گئی مہم ہفتہ کو سوشل میڈیا پر خوب چھائی رہی ۔ ہزاروں لوگوں نے طالبات کی پوسٹ کو لائک اور شیئر کیا۔

اے بی وی پی کی مخالفت اور حمایت میں ڈی یو کے باہر کے لوگ بھی میدان میں آگئے ہیں۔ جے این یو کے طلبہ اے بی وی پی کی مخالفت میں اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔ اے بی وی پی کی حمایت میں ایک شہید کا بھائی بھی اتر آیا ہے۔ اس نے خود کو ڈاکٹر بتایا ہے اور کہا ہے کہ میں ڈی یو کا اسٹوڈنٹ نہیں ہوں ، لیکن ملک کے مفاد میں میں اے بی وی پی کی حمایت کرتا ہوں۔

واضح رہے کہ جے این یو طالب علم عمر خالد کے ڈی یو میں ہونے والے پروگرام کو رد کئے جانے کو لے کر بدھ کو آئیسا اور اے بی وی پی کے طلبہ کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔ رامجس کالج میں عمر خالد اور شهلا رشید کو کالج کی لٹریری سوسائٹی نے ایک ٹاک میں حصہ لینے کے لئے بلایا تھا۔

خالد کو 'دی وار ان آدیواسی ایریا کے موضوع پر بولنا تھا، لیکن اے بی وی پی کی مخالفت کی وجہ سے رامجس کالج کو یہ منسوخ کرنا پڑا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز