ہریانہ اور اتراکھنڈ میں گئوركشكوں کو اب ملے گی سرکاری منظوری ، جاری ہوگا شناختی کارڈ

Aug 07, 2017 06:09 PM IST | Updated on: Aug 07, 2017 06:10 PM IST

چنڈی گڑھ : جہاں ایک طرف گئوركشكو کی غنڈہ گردی پر وزیر اعظم دو مرتبہ تشویش ظاہر کر چکے ہیں تو دوسری طرف ان پر نکیل کسنے کی جگہ ہریانہ اور اتراکھنڈ سرکار انہیں لیگل کرنے جا رہی ہے۔ دونوں ریاستوں میں گئوسیوا کمیشن ہیں۔ اسی کے ذریعہ حکومت اب تسلیم شدہ گئوركشك بنانے کے لئے کام کر رہی ہے۔

ہریانہ گئو سروس کمیشن کے چیئرمین بھانی رام منگلا نے نیوز 18 ڈاٹ کام سے بات چیت میں بتایا کہ ہر ضلع سے گئوركشك بننے کے لئے درخواست طلب کی گئی ہیں۔ ان کی پولیس ویریفکیشن ہونی تھی، یہ کام چل رہا ہے، پولیس تصدیق کے بعد درخواست دہندگان کو حکومت شناختی کارڈ جاری کرے گی۔

ہریانہ اور اتراکھنڈ میں گئوركشكوں کو اب ملے گی سرکاری منظوری ، جاری ہوگا شناختی کارڈ

نو اضلاع سے 275 درخواست موصول ، 80 بنیں گے گئو ركشك

منگلا نے بتایا کہ 9 اضلاع سے 275 لوگوں نے گئوركشك بننے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کی پولیس جانچ رپورٹ آ گئی ہے۔ اس میں سے تقریبا 80 گئو ركشك بنائے جائیں گے۔ دیگر اضلاع کی رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی ہے۔ تھانے سطح سے گئوركشك بننے کے لئے درخواست دینے والوں کے پس منظر کی جانچ ہو رہی ہے۔ تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کہیں درخواست کرنے والا مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تو نہیں ہے۔

ساتھ ہی ساتھ منگلا نے یہ بھی تسلیم کیا گئوركشا کے نام پر جرائم اور مارپیٹ کے واقعات بڑھ رہے ہیں ۔ تاہم انہوں نے دعوی کیا کہ اس سے انہیں روکنے میں مدد ملے گی۔ ان گئوركشكو کے علاوہ کوئی اور شخص جانچ نہیں کر پائے گا۔ گئوركشكوں کی معلومات حکومت کے پاس موجود رہے گی ، اس وجہ سے کوئی غلط کام کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

ادھر اتراکھنڈ میں بھی گئوركشكوں کی شناخت کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اتراکھنڈ گئو سروس کمیشن نے ریاست کے سبھی 13 اضلاع کے ضلع افسروں سے کہا ہے کہ ایس پی سی اے کی مدد سے ایسے لوگوں کی شناخت کی جائے۔کمیشن کے صدر نریندر راوت کا کہنا ہے کہ 'کمیشن ان آئی کارڈ کو گئو رکشکوں کے آدھار سے بھی لنک کرے گا تاکہ کسی کی شناخت کو لے کر کوئی شبہ نہ رہے۔

گئوركشك بننے کے لئے اتراکھنڈ میں نہیں آئی کوئی درخواست

راوت کے مطابق یہ حکم مارچ مہینے میں جاری کر دیا گیا تھا، لیکن ابھی تک ایک بھی گئوركشك کا نام نہیں ملا ہے۔ راوت کہتے ہیں کہ انہوں نے اس ماہ کی 5 تاریخ کو ہی تمام ڈی ایم کو دوبارہ خط لکھ کر یہ کام جلد سے جلد کرنے کیلئے کہا ہے۔وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ 80-90 فیصد گئوركشك فرضی ہیں اور اس سے حقیقی گئوركشك بھی پریشان ہوتے ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ حقیقی گئوركشك پریشان نہ ہوں اور جو کام وہ کر رہے ہیں کسی خوف کےبغیر کر پائیں۔

دونوں حکومتوں نے تسلیم کیا کہ گئوركشا کے نام پر ہو رہی تھی غنڈہ گردی

ہریانہ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر ٹرانسپورٹ آفتاب احمد کہتے ہیں کہ گئوركشكوں کو منظوری دے کر آئی ڈی کارڈ جاری کرنے کا منصوبہ بنا کر دونوں حکومتوں نے یہ اعتراف کیا ہے کہ گئوركشا کے نام پر غنڈہ گردی ہو رہی تھی۔ ایسی منظوری نہیں دی جانی چاہئے۔ اس سے گئوركشا کے نام پر غنڈہ گردی مزید بڑھے گی۔ احمد کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں کئی گئوشالاوں میں گائیں مر رہی ہیں ، لیکن اس پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز