دنیا بھر میں یوم اردوتقریبات کی دھوم ، اردو کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کا عہد ، مختلف شہروں میں پروگرام

Nov 10, 2017 07:44 PM IST | Updated on: Nov 10, 2017 07:44 PM IST

نئی دہلی: شاعر مشرق علامہ اقبال کی یوم پیدائش کی مناسبت سے9نومبرکو دنیا بھر میں یوم اردو تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ دارالحکومت دہلی کے علاوہ ہندوستان کے بیشتر شہروں اور قصبات میں عالمی اردو ڈے تقریبات کے تحت مختلف طرح کے پروگرام منعقد کئے گئے ، جن میں مقررین اور شرکاء نے اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لئے عملی اقدامات کرنے کا عہد کیا۔

یہاں یونائٹیڈ مسلم آف انڈیا اور اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے تحت منعقد پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے معروف ماہر اقبالیات اور دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر عبدالحق نے کہا کہ آج کا دور صارفیت کا دور ہے ،اس بازار میں اردو کی بڑی اہمیت ہے اور اردو پڑھنے والا کوئی بھی خسارہ میں نہیں ہے ، اس وقت اردو پڑھنے والا ہر شخص نفع میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اردو کے دشمن ہیں انکے پروڈکٹس مت خریدےئے ۔انہوں نے اردو کے چاہنے والوں کو متنبہ کیا کہ اگر اس وراثت کو اپنی آنے والی نسلوں تک منتقل نہیں کیا تو ہم بھی اور ہمارے بچے بھی خسارے میں رہیں گے۔

دنیا بھر میں یوم اردوتقریبات کی دھوم ، اردو کے فروغ کیلئے عملی اقدامات کا عہد ، مختلف شہروں میں پروگرام

اقبال کی عالمی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحق نے کہا کہ انہوں نے ہندوستان میں پہلی مرتبہ دہلی یونیورسٹی سے 1965میں اقبال پر پی ایچ ڈی کی تھی اور اس کے بعد سے اب تک اقبال پر ڈھائی سو سے زائد تحقیقی مقالے اور دس ہزا رسے زائد کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقبال کوپڑھے بغیر نہ تو کوئی اچھا شاعر بن سکتا ہے‘ نہ ہی اچھا عالم اور نہ ہی ادیب۔ بلکہ اگر کسی کو اچھا انسان بننا ہے تو اسے بھی اقبال کی شاعری سے استفادہ کرنا ہوگا۔

اس موقع پر ایک قرارداد منظور کرکے ان سات ریاستی حکومتوں سے ، جہاں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ، گاوں او ربلاک کی سطح پر اردو میڈیم اسکو ل کھولنے ، بارہویں جماعت تک اسکولوں میں اردو کو بطور مضمون شامل کرنے اور اردو ٹیچروں کا انتظام کرنے نیز میڈیکل کالجوں میں داخلہ کے لئے ہونے والے مسابقتی امتحان( نیٹ ) کو اردو میں بھی کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔

اپنے افتتاحی تقریر میں یو ایم آئی کے جنرل سکریٹری اور عالمی اردو ڈے کے کنوینر ڈاکٹر سیدا حمد خان نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ بیس سال قبل اردو ڈے منانے کی جس چھوٹی سے کوشش کا آغاز کیا گیا تھا وہ آج دنیا بھر میں پھیل چکی ہے اور صرف ہندوستان ہی نہیں دنیا کے ان تمام ملکوں میں جہاں اردو بولنے والے موجود ہیں نو نومبر کو اردو ڈے کے طورپر منایا جاتا ہے۔ دہلی اردو اکیڈمی کے نائب چےئرمین ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے کہا کہ اگر اردو کو مسلمانوں کی زبان سمجھا جاتا ہے تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خداکے واسطے اسے اپنی زبان سمجھے اور آنے والی نسلوں تک اسے پہنچائیے۔

سینئر صحافی معصوم مرادآبادی نے کہا کہ اردو گوکہ بین الاقوامی زبان ہے لیکن آج اس کے نئے قارئین پیدا نہیں ہورہے ہیں۔ اردو کی دکان چلانے والوں کے بچوں تک اردو سے آشنا نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ گوکہ اردو کے نام پر ہونے والے پروگراموں میں نئی نسل کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر اردو کے رسم الخط سے واقف نہیں ہوتی ۔ ہمیں انہیں اردو رسم الخط سے واقف کرانے پر توجہ دینی چاہئے۔

جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری اعجاز احمد اسلم نے کہا کہ اردو کو صرف شاعری تک محدود نہیں رہنے دیں بلکہ اسے خودبھی پڑھیں اور اپنی آنے والی نسلوں تک بھی منتقل کریں۔انہوں نے مردم شماری کے وقت اردو کو اپنی مادری زبان کے طورپر لکھوانے کا بھی مشورہ دیا۔ پروگرام کی نظامت صحافی سہیل انجم نے کی۔

اس موقع پر اردو کے لئے خدمات کے اعتراف میں متعدد افراد کو اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ان میں بزرگ شاعر پنڈت آنند موہن گلزار‘ عظیم اختر‘ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی ‘ افضل منگلوری‘ مولانا سراج الدین ندوی او رعبدالحئی خان شامل ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز