زندگی کے ساتھ بھی اور زندگی کے بعد بھی ، ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیلئے اب آدھار کارڈ ہوا ضروری

Aug 04, 2017 08:09 PM IST | Updated on: Aug 04, 2017 08:09 PM IST

نئی دہلی: حکومت نے جموں و کشمیر، آسام اور میگھالیہ کو چھوڑ کر یکم اکتوبر سے پورے ملک میں موت کے رجسٹریشن کیلئے آدھار نمبر کو لازمی کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے آج جاری بیان کے مطابق موت سرٹیفکیٹ کے لئے یکم کتوبر 2017 سے آدھار نمبر دینا لازمی ہوگا۔ اگر کوئی شخص موت سرٹیفکیٹ کے لئے درخواست دیتا ہے اور اسے میت کا آدھار نمبر یا آدھار انرولمنٹ آئی نمبر (ای آئی ڈی) کی معلومات نہیں ہے، تو اسے ایک حلف نامہ دینا ہوگا کہ وہ میت کاآدھار نمبر نہیں جانتا ہے۔

اگر درخواست گزار اس سلسلے میں جھوٹا حلف نامہ دیتا ہے تو اس کے خلاف آدھار قانون 2016 کی دفعات اور پیدائش اور موت 1969 رجسٹریشن قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت نے کہا ہے کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہےتا کہ لوگوں کو پیدائش اور موت سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں کوئی مشکل نہ ہو اور شناخت میں کسی قسم طرح کی دھوکہ دہی نہ ہو۔

زندگی کے ساتھ بھی اور زندگی کے بعد بھی ، ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیلئے اب آدھار کارڈ ہوا ضروری

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ باقی تینوں ریاستوں کے لیے الگ سے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ موت کے سرٹیفکیٹ کے لئے آدھار کو ضروری بنائے جانے سے رشتہ داروں یا لواحقین کی طرف میت کے سلسلے میں دی گئی تفصیلات کی صحیح معلومات ملنے میں مدد ملے گی۔ اس سے کسی کی شناخت کے تعلق سے دھوکہ دہی کو روکنے کے ساتھ ساتھ میت کا ریکارڈ رکھنے میں مدد ملیگی۔ میت کے سلسلے میں کئی طرح کی دستاویزات فراہم کرنے سے راحت ملے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز