ایڈووکیٹ عبدالرحمان نے مسلم پرسنل لا بورڈ پر لگائے سنگین الزامات ، سی بی آئی جانچ کا مطالبہ

May 11, 2017 09:46 PM IST | Updated on: May 11, 2017 09:46 PM IST

نئی دہلی: ملک میں صنفی مساوات قائم کرنے کی حکومت کی کوششوں کے خلاف اور تین طلاق جیسے متنازعہ طلاق ثلاثہ کی مدافعت میں قانونی لڑائی لڑنے کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے عہدیداروں کی طرف سے پاکستان سے حوالہ کے ذریعے رقم حاصل کرنے کا ایک مبینہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ کے نوٹس میں لایا گیا ہے اور اس کی جانچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) یا قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) سے کرائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انڈین انٹیلی جنس کے لئے کام کرنے کا دعوی کرنے والے سپریم کورٹ کے وکیل عبدالرحمان نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے کہ ملک کے 20 کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے مسلم پرسنل لا بورڈ کے کچھ عہدیدار قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی پاکستان کی خفیہ ایجنسی 'انٹر سروسز انٹیلی جنس' (آئی ایس آئی) کی سازش میں شامل ہیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے پختہ اور اہم آڈیو ثبوت ان کے پاس موجود ہیں، جنہیں وہ ہائی کورٹ کو ضرورت پڑنے پر فراہم کر سکتے ہیں۔عدالت جلد ہی اس معاملے کی سماعت کرے گی۔

ایڈووکیٹ عبدالرحمان نے مسلم پرسنل لا بورڈ پر لگائے سنگین الزامات ، سی بی آئی جانچ کا مطالبہ

مسٹر رحمان نے مفاد عامہ کی عرضی میں دعوی کیا ہے کہ بورڈ کے سکریٹری جنرل مولانا ولی رحمانی اور دیگر تین اراکین نے پاکستان کی حکومت سے رابطہ کرکے مسلم پرسنل لا، اجودھیا تنازعہ اور صنفی مساوات کے تعلق سے مودی حکومت کی کوششوں پر پانی پھیرنے کے لئے پاکستانی خفیہ ایجنسی سے فنڈز فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔

انہوں نے اپنی درخواست میں یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اپریل کے آخری ہفتے میں آئی ایس آئی نے اس کے لئے دوبئی کے حوالہ آپریٹر کے ذریعے فنڈ مہیا کرایا تھا اور مسٹر رحمانی نے اسے دہلی میں حاصل کیا تھا۔ 2011 سے انڈین انٹیلی جنس کے لئے کام کرنے کا دعوی کرنے والے مسٹر رحمان نے مزید کہا کہ انہیں یہ معلومات آئی ایس آئی کے قابل اعتماد ذرائع سے ملی تھیں۔ یہ معلومات حکومت ہند کو بھی دستیاب کرائی جا چکی ہے۔

عرضی گزار نے ہائی کورٹ سے قومی سلامتی کے پیش نظر مسلم پرسنل لا بورڈ کے اکاؤنٹس کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے حوالہ کاروبار کے ذریعے فنڈ حاصل کرنے کے معاملے میں بورڈ کے عہدیداروں کے رول کی سی بی آئی یا این آئی اے سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیاہے۔ مسٹر رحمن کا دعوی ہے کہ انڈین انٹیلی جنس کے لئے کام کرنے کے دوران انہیں پاکستان ہائی کمیشن کا قانونی مشیر مقرر کیا گیا تھا اور اسی کے ذریعے سے انہوں نے پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے حکام اور سفارتکاروں کے ساتھ اپنے تعلقات بڑھا لئے تھے۔ آئی ایس آئی کے لوگوں نے ہی انہیں حوالہ کاروبار سے پیسہ لئے جانے اور ہندستان میں معاشرتی ہم آہنگی بگاڑكر مودی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کی معلومات فراہم کی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز