سی بی آئی ہیڈ کوارٹر سے متصل لال مسجد کے احاطہ کے ایک حصہ پر سی آر پی ایف کا قبضہ ، چوطرفہ تنقید

Aug 06, 2017 06:11 PM IST | Updated on: Aug 06, 2017 06:11 PM IST

نئی دہلی: دہلی کے پنج پیران قبرستان کے بالمقابل اور سی بی آئی ہیڈکوارٹر سے متصل لال مسجد کے احاطے کو سنٹرل ریزرو پولیس فورس کو الاٹ کئے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے وکیل اور یونائٹیڈ مسلمس فرنٹ کے چیرمین ایڈووکیٹ شاہد علی نے کہاکہ اگر اسی طرح مسلمان وقف کی جائداد کے تئیں لاپروا رہے تو دہلی میں وقف کی کوئی جائداد نہیں بچے گی۔

انہوں نے دعوی کیا کہ گزشتہ دنوں سی آر پی ایف کے افسران پولیس دستے کے ساتھ لال مسجد کے احاطے پر قبضہ کرنے آئے تھے اور ایک بڑا حصہ پر قبضہ بھی کرلیا ہے جب کہ یہ زمین 31دسمبر 1970کے گزٹ میں بطور لال مسجد اور قبرستان درج ہے اور وقف بورڈ کے ریکارڈ میں بطور وقف جائداد درج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ کی زمین کو نہ بیچا جاسکتا ہے، نہ ہی ٹرانسفر کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی الاٹ کیا جاسکتا ہے تو پھر کس طرح گورنمنٹ ایجنسی نے سی آر پی ایف کو الاٹ کردیا۔ یہ حکومت کا بنایا ہوا قانون ہے اور حکومت کی ایجنسی ہی اس کی دھجیاں اڑا رہی ہیں۔

سی بی آئی ہیڈ کوارٹر سے متصل لال مسجد کے احاطہ کے ایک حصہ پر سی آر پی ایف کا قبضہ ، چوطرفہ تنقید

file photo

انہوں نے بتایا کہ دہلی کی ضلع عدالت اور ہائی کورٹ نے بھی اس پراسٹے دے رکھا ہے جس کے مطابق اس زمین کی جو صورت حال ہے وہ جوں کی توں برقرار رکھی جائے گی لیکن اس کے باوجود سی آر پی ایف نے لال مسجد کے احاطے میں قبروں کو توڑ کر توہین عدالت کا کام کیا ہے۔ مسٹر شاہد علی نے دعوی کیا کہ ہم نے ڈی سی پی اور اے سی پی کو اسٹے آرڈر بھی دکھائے لیکن انہوں نے اس پر توجہ دی نہیں دی اور ان کی نگرانی میں سی آر پی ایف والوں نے لال مسجد کے احاطے پر قبضہ جاری رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ سی آر پی ایف نے ایک بڑے حصے پر خاردار تار ڈال کر قبضہ کرلیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس کے لئے ہم نے توہین عدالت کا مقدمہ بھی درج کرایا ہے لیکن عوامی دباؤ سب سے زیادہ کام کرتا ہے۔چوں کہ عدالت میں اس طرح کا مقدمہ طویل عرصہ چلتا ہے اس لئے بہتر طریقہ عوامی بیداری ہے اور اس سے اس مسئلے کا حل جلد ہوسکتا ہے۔ مسٹر علی نے دعوی کیا کہ اسی طرح کورٹ کے آرڈر کے باوجود ناجائز قبضہ ہٹانے کے نام پر تکونہ قبرستان میں کئی قبریں توڑ دی اور ڈی ڈی اے مسجد کو بھی شہید کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے دہلی کے عوام اور خاص طور پر مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ وقف جائداد کے تئیں بیدار ہوں اور اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتے ہوئے وقف جائداد کا تحفظ کریں ۔ انہوں نے حکومتی ایجنسی کے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ایک سازش کے تحت دہلی کی وقف جائدادوں پر کئی ایجنسیوں کی نظر ہے اور وہ چاہتی ہے کہ مسلمانوں کے پاس کوئی قبرستان اور وقف کی جائداد نہ رہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز