اب فوج کے جوان نے اٹھائی آواز، اعلی افسران پر لگایا استحصال کا الزام

Jan 12, 2017 07:00 PM IST | Updated on: Jan 12, 2017 07:00 PM IST

نئی دہلی : بی ایس ایف اور سی آر پی ایف کے جوان کے بعد اب فوج کے ایک جوان نے بھی استحصال کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ فوج کے جوان یگیہ پرتاپ نے فوجی حکام پر استحصال کا الزام عائد کیا ہے۔ لانس نائک یگیہ پرتاپ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ سے شکایت کرنے کے بعد اسے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

لانس نائک یگیہ پرتاپ کے مطابق میں فوج میں 15 سال سے کام کر رہا ہوں، حکام کے ذریعہ کس طرح جوانوں کا استحصال کیا جاتا ہے، میں نے دیکھا ہے۔ لیکن کبھی ہمت نہیں کرسکا ، کیونکہ تمام طاقت حکام کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اگر میں کچھ کرتا ہوں ، تو میرے خلاف افسران کارروائی کر سکتے ہیں۔

اب فوج کے جوان نے اٹھائی آواز، اعلی افسران پر لگایا استحصال کا الزام

یگیہ پرتاپ کے مطابق فوج میں افسر ان کے ذریعہ جوانوں کے استحصال کیا جاتا ہے، جیسے گھر کا کام، حکام کے جوتے پالش کرنا، میم صاحب کے ساتھ کچن کا کام کرنا، حکام کے بچے کو اسکول چھوڑ کر آنا ، جیسے کئی کام جوانوں کو کرنے پڑتے ہیں ، جو ایک جوان کو کبھی اچھے نہیں لگتے ہیں، لیکن مجبوری میں کرنے پڑتے ہیں۔ وزیر اعظم ، صدر جمہوریہ اور حقوق انسانی کمیشن کو بھی اس بابت خط لکھا، لیکن کہیں سے کوئی جواب نہیں ملا۔ مجھے حقوق انسانی کمیشن سے جواب آیا کہ یہ ڈیفنس کا معاملہ ہے، اس میں ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

نیم فوجی فورسز کے جوانوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ ہونے کی ایک اور خبر سامنے آنے کے درمیان حکومت نے کہا کہ وہ ایسے تمام واقعات کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ سیل اور ان کے کھانے کو لے کر حالات کو بہتر بنانے کے لئے اصلاحی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ كرن رجيجو نے کہا کہ بہت سی چیزیں روشنی میں آئی ہیں اور ہم انہیں سنجیدگی سے لے رہے ہیں، ہم یقینی بنائیں گے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز