کشمیر : ماجد خان کے بعد اب ایک اور نوجوان نے چھوڑا تشدد کا راستہ ،لوٹا اپنے گھر ، والدہ نے تھی جذباتی اپیل

جنوبی کشمیر میں ایک اور نوجوان نے مسلح عسکری گروپ سے ناطہ توڑ کر گھر واپسی اختیار کی ہے۔

Nov 20, 2017 04:39 PM IST | Updated on: Nov 20, 2017 04:39 PM IST

سری نگر: جنوبی کشمیر میں ایک اور نوجوان نے مسلح عسکری گروپ سے ناطہ توڑ کر گھر واپسی اختیار کی ہے۔ جموں وکشمیر پولیس نے پیر کو اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ’جنوبی کشمیر میں ایک اور نوجوان نے والدین کی اپیل پر گھر واپسی اختیار کی۔ اس نے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی‘۔ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے اس پیش رفت کو ایک بہت اچھی خبر قرار دیتے ہوئے کہا ’کولگام کے دورے کے دوران مجھے بتایا گیا کہ ایک اور مقامی جنگجو نے اپنی والدہ اور دیگر افراد خانہ کی اپیل پر گھر واپسی اختیار کی ہے۔ یہ ایک بہت ہی اچھی خبر ہے!‘۔ تاہم سیکورٹی عہدیداروں کی جانب سے گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

ایک پولیس عہدیدار کے مطابق ایک سرگرم جنگجو نے تشدد کا راستہ ترک کرکے گھر واپسی اختیار کی ہے۔ جب ہمیں اطمینان ہوگا کہ اس کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، ہم اس کی شناخت ظاہر کریں گے‘۔تاہم مقامی میڈیا کی ایک رپورٹ میں سرکاری عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنوبی ضلع کولگام کے چمر دمہال ہانجی پورہ کے رہنے والے ایک 16 سالہ نوجوان نثار احمد ڈار نے اپنے والدین کی اپیل پر پولیس کے سامنے خودسپردگی اختیار کی ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان نے رواں برس 27 ستمبر کو جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ایک اور رپورٹ میں کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان کے حوالے سے کہا گیا’ نہ اُس نے خودسپردگی اختیار کی ہے اور نہ اسے گرفتار کیا ہے۔ وہ اپنے آپ واپس اپنے گھر آگیا ہے‘۔

کشمیر : ماجد خان کے بعد اب ایک اور نوجوان نے چھوڑا تشدد کا راستہ ،لوٹا اپنے گھر ، والدہ نے تھی جذباتی اپیل

خیال رہے کہ یہ پیش رفت جنوبی ضلع اننت ناگ میں فٹ بالر سے لشکر طیبہ جنگجو بننے والے 20 سالہ ماجد خان عرف شان پولاک کی ایک فوجی کیمپ میں خودسپردگی کے تین دنوں بعد سامنے آئی ہے۔ ماجدکی واپسی کے بعد مزید دو مقامی جنگجوؤں کے والدین نے اپنے بیٹوں سے گھر واپسی کی اپیل کی تھی۔ فوج کی 15 ویں کورپس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جے ایس سندھو، ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید اور آئی جی سی آر پی ایف (آپریشنز) ذوالفقار حسن نے اتوار کو یہاں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے والے کشمیری نوجوانوں سے ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں آنے کی مشترکہ اپیل کی ۔

انہوں نے کہا کہ تشدد کا راستہ ترک کرنے والے نوجوانوں کو کسی بھی قسم کی ہراسانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ماجد خان کی گھر واپسی کے بعد مزید والدین کی طرف سے اپنے جنگجو بیٹوں کو واپس گھر آنے کی اپیلیں جاری ہونے کے حوالے سے پولیس سربراہ نے کہا ’یہ انتہائی حوصلہ افزاء رجحان ہے۔ میں دوسرے مقامی جنگجوؤں کی ماؤں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں سے واپس آنے کی اپیل کریں‘۔

Loading...

تین دن قبل ماجد خان نے بھی کی تھی خودسپردگی

ماجد خان نامی فٹ بالر نے 16 نومبر کی شام کو ضلع اننت ناگ کے کھنہ بل میں واقع 1 راشٹریہ رائفلز (آر آر) کے کیمپ میں خودسپردگی اختیار کی۔ماجد کے والدین نے اسے ویڈیو پیغامات کے ذریعے واپس گھر آنے کی اپیل کی تھی۔لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت کے بعد ماجد خان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں اسے ایک اے کے 47 رائفل کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ تاہم جب یہ اطلاع ماجد کی والدہ عاشیہ بیگم کو ملی تو اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔ عاشیہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کے نور (ماجد خان) کے واپس آنے تک بھوکی رہے گی۔ وہ اپنے گھر آنے والے ہر ایک شخص سے کہتی تھی کہ وہ ’ماجد‘ کو واپس لانے میں اپنے طور پر مدد کرے۔

اس دوران ماجد کے والد ارشاد احمد خان کو 14 نومبر کو اس وقت دل کا دورہ پڑا جب اسے کہیں سے معلوم ہوا کہ اس کا بیٹا ضلع کولگام میں سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنس گیا ہے۔ تاہم ماجد کے سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسنے کی خبر صحیح نہیں تھی۔ ماجد خان کے والد اور والدہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کشمیر کے بیشتر سوشل میڈیا صارفین نے ماجد سے اپیل کی تھی وہ اپنے گھر کو واپس لوٹ آئیں۔ بعض صارفین نے ماجد کو اللہ اور اس کے رسول (ص)کا واسطہ دیکر اپنے گھر کو واپس لوٹنے کی اپیل کی تھی۔

جنوبی کشمیر کے قصبہ اننت ناگ میں کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ڈگری کالج اننت ناگ میں بی کام سال دوم کے طالب علم ماجد نے اپنے ایک قریبی دوست یاور نثار کی ہلاکت کے بعد جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔ نثار نے جولائی 2017 ء میں عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی اور اسے گذشتہ ماہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک مسلح تصادم میں جاں بحق کیا گیا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز