اترپردیش : یوگی حکومت میں دہشت کا ماحول ، اب سنبھل میں مخصوص فرقہ کے لوگ نقل مکانی پرمجبور

May 12, 2017 03:42 PM IST | Updated on: May 12, 2017 03:42 PM IST

سنبھل: اترپردیش میں سہارنپور کے بعد اب سنبھل کے ایک گاؤں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ دہشت کی وجہ سے ایک ہی فرقہ کے کچھ لوگ گاؤں سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔ پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات ہوئے ہیں تاہم پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل اونکار سنگھ کا کہنا ہے کہ صورتحال کنٹرول میں ہے۔مسٹر سنگھ نے ’يواین آئی ‘ کو فون پر بتایا کہ 15 نامزد لوگوں میں سے چھ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ لوگ گاؤں چھوڑ کہیں چلے گئے ہیں، لیکن انہوں نے اسے نقل مکانی ماننے سے انکار کیا ہے۔

معاملہ گننور علاقے کے نندرولي گاؤں کا ہے۔ گزشتہ نو مئی کی رات ایک شادی شدہ عورت دوسرے فرقہ کے لڑکے ببلو کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ دوسرے دن عورت کی برادری کے لوگوں نے دوسرے فرقہ کے لوگوں کے ساتھ مارپیٹ کی۔ رات میں کچھ جھونپڑيوں اور ایک موٹر سائیکل کو آگ لگا دی۔ گھروں کی کھڑکی دروازے توڑ دیئے گئے۔

اترپردیش : یوگی حکومت میں دہشت کا ماحول ، اب سنبھل میں مخصوص فرقہ کے لوگ نقل مکانی پرمجبور

مسٹر سنگھ نے بتایا کہ صورتحال کنٹرول میں آ ہی رہی تھی کہ کل شام بھی کچھ لوگوں نے گاؤں میں توڑپھوڑ کی۔ صورت حال اب پرسکون ہے۔ گاؤں میں تین ایس ایچ او اور کافی تعداد میں پی اے سی کے جوان تعینات ہیں۔ چھ فسادیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مفرور عورت اور لڑکے کی گرفتاری کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عورت اور لڑکے کا گھر آس پاس ہی ہے۔

پولیس افسر نے کہا کہ انہوں نے خود گاؤں کا دورہ کیا ہے۔ لوگوں سے بات کی ہے۔ گاؤں والوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ ذاتی معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سماجی تانے بانے کو منتشر کرنے میں لگے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ غور طلب ہے کہ حال ہی میں سہارنپور میں 20 دن کے اندر کشیدگی کی تین واقعات ہوئے، جس میں ایک فرقہ وارانہ اور دو نسلی جھڑپ تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز