انکشاف : افضل گرو کی رحم کی عرضی سے متعلق فائل کو شیلا حکومت نے تقریبا چار سالوں تک دبائے رکھا تھا

Jun 11, 2017 04:29 PM IST | Updated on: Jun 11, 2017 04:30 PM IST

نئی دہلی : پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں تختہ دار پر لٹكائے گئے افضل گرو کی رحم کی درخواست سے متعلق فائل کو دہلی کی شیلا دکشت حکومت نے تقریبا چار سال تک دبائے رکھا تھا۔ یہ انکشاف حال میں شائع کتاب 'جرنلزم تھرو آر ٹی آئی میں کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ کے بار بار خط لکھنے اور یاد دہانی کرائے جانے کے باوجود دہلی حکومت نے کوئی جواب نہ دے کر معاملے کوالتوامیں رکھا جبکہ افضل گرو کو پھانسی دینے میں تاخیر پرمرکز کی کانگریس کی قیادت والی متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت کو تنقید کا نشانہ بننا پڑ رہا تھا۔

خیال رہے کہ دسمبر 2001 میں پارلیمنٹ پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں افضل گرو کو گرفتار کرکے مقدمہ چلایا گیا اور اسے سزائے موت دی گئی۔ سپریم کورٹ نے چار اگست 2005 کو اس کی موت کی تصدیق کر دی تھی۔ اس کی بیوی تبسم افضل نے صدر کے پاس رحم کی درخواست دائر کی لیکن اس کی پھانسی میں تاخیر ہوتی رہی اور یہ معاملہ مسلسل شہ سرخیوں میں چھایا رہا۔ نومبر 2008 میں ممبئی پر دہشت گردانہ حملہ ہونے کے بعد اس مسئلہ کواور اچھالا گیا اور 2009 کے عام انتخابات کے دوران یہ مسئلہ بار بار اٹھا۔

انکشاف : افضل گرو کی رحم کی عرضی سے متعلق فائل کو شیلا حکومت نے تقریبا چار سالوں تک دبائے رکھا تھا

افضل گرو کو سزائے موت دینے میں ہو رہی تاخیر کی تہہ میں جانے کے لیے کتاب کے مصنف اور سینئر صحافی شيام لال یادو نے مرکزی وزارت داخلہ، محکمہ انصاف اور دہلی حکومت میں متعددآرٹی آئی درخواستوں کے ذریعے معاملے سے متعلق کئی دستاویزات جمع کئے ۔ دہلی حکومت سے دستاویزات کی کاپیاں لینے کے لئے مسٹر یادو نے فوٹوكاپي کا خرچ خود ہی برداشت کیا۔ ان دستاویزات سے جو سچائی سامنے آئی اس کے مطابق افضل گرو کی بیوی تبسم افضل نے اکتوبر 2006 کو صدر کے پاس رحم کی درخواست دائر کی۔ مرکزی وزارت داخلہ نے دہلی حکومت کا موقف جاننے کے لیے اسی دن اسے دہلی حکومت کو بھیج دیا۔ وزارت داخلہ کے 16 بار خط لکھے جانے اور یاد دہانی کرائے جانے کے باوجود دہلی حکومت نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا اور تقریبا چار سال تک متعلقہ فائل دبائے رکھا۔

ممبئی حملے کے سلسلے میں گرفتار پاکستانی دہشت گرد اجمل قصاب کو پھانسی کی سزا سنائے جانے پر افضل گرو کا مسئلہ دوبارہ سرخیوں میں آگیا۔ دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت نے 17 مئی 2010 کو میڈیا میں بیان دیا کہ اس مسئلے کے تعلق سے انہیں مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی خط نہیں موصول نہیں ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ محکمہ داخلہ (دہلی حکومت)کو اس طرح کا کوئی خط ملا ہو۔ مزے کی بات یہ ہے کہ محکمہ داخلہ کا چارج انہیں کے پاس تھا۔

یہ بیان پڑھنے کے بعد مسٹر یادو نے آر ٹی آئی کے ذریعے ملے دستاویزات دوبارہ مطالعہ کیا اور انہیں 'انڈیا ٹوڈے کے پورٹل پر اپ لوڈ کر دیا۔ ان سے واضح ہوتا تھا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے 16 مرتبہ دہلی حکومت کو افضل گرو کی رحم کی درخواست پر اپنی رائے دینے کو کہا تھا۔ یہ دستاویزات محترمہ دکشت کے بیان کو غلط ٹھہرانے کیلئے کافی تھے۔

کتاب میں کہا گیا ہے کہ اس کے اگلے روز 18 مئی 2010 کو ہی محترمہ دکشت نے متعلقہ فائلوں کو دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کو بھیج دی جنہوں نے اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے اسی دن مرکزی وزارت داخلہ کو بھیج دیا۔ بالآخر صدر نے تین فروری 2013 کو رحم کی درخواست منسوخ کر دی اور اس کے چھ دن بعد افضل گرو کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ اطلاعات کے حقوق کی ہی طاقت تھی کہ دہلی کی وزیر اعلی كو 24 گھنٹے کے اندر اپنا موقف تبدیل کرنا پڑا کیونکہ جس طرح کے دستاویزات عام کئے گئے تھے وہ تمام سرکاری تھے جنہیں آر ٹی آئی کے بغیر حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز