آگرہ کی نئی پہچان کیوں بن رہی ہے یہ مسلم لڑکی؟

Apr 06, 2018 12:25 PM IST | Updated on: Apr 06, 2018 12:26 PM IST

آگرہ۔ تاج نگری آگرہ کی رہنے والی نازیہ خان اب اس شہر کو ایک نئی شناخت دے رہی ہیں۔ نازیہ خان اپنی کم عمری میں ہی اپنی بہادری کو متعارف کرا کر ملک بھر میں شہرت حاصل کر چکی ہیں۔ 6 اگست، 2015 کو نازیہ نے اپنے ہی اسکول کی لڑکی کو اغوا ہونے سے بچایا تھا۔ تب نازیہ 11 ویں میں پڑھتی تھیں اور چھٹی ہونے کے بعد پیدل اپنے گھر لوٹ رہی تھیں۔

کسی نے چلا کر آواز دی تو نازیہ پیچھے مڑی اور دیکھا کہ اسی کے اسکول کی ایک طالبہ کو تین بائک سوار اغوا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بیچ سڑک پر ہو رہے اس واقعہ کے خلاف کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا لیکن نازیہ چپ نہیں رہی اور بدمعاشوں سے جا بھڑی۔  کافی جدوجہد کے بعد نازیہ نے لڑکی کو بدمعاشوں کے چنگل سے محفوظ بچا لیا۔ نازیہ کی اسی بہادری کے لئے یوپی کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے انہیں رانی لکشمی بائی بہادری ایوارڈ سے نوازا تھا۔

آگرہ کی نئی پہچان کیوں بن رہی ہے یہ مسلم لڑکی؟

بہادر لڑکی نازیہ خان

نازیہ یہیں نہیں رکیں، انہوں نے بستی اور آس پڑوس والوں کے مطالبے پر اپنے گھر کے ارد گرد کئی سالوں سے چل رہے جوا، سٹے اور چرس کے کاروبار کو بھی بند کروایا۔ ان کی اسی بہادری کے لئے انہیں بھارت ایوارڈ سے نوازا گیا۔

تین مارچ 2017 کو نازیہ کو وزارت داخلہ کی جانب سے بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ وزیر اعظم اور صدر بھی نازیہ کو اعزاز سے سرفراز کر چکے ہیں۔ فی الحال، نازیہ خواتین کو بااختیار بنانے کی کوشش کررہی ہیں اور اپنے شہر کا نام روشن کرنا چاہتی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز