اویسی نے بھی یوپی کے میدان میں اتارے اپنے 11 امیدوار، نہیں کریں گے کسی سے اتحاد!۔

Jan 10, 2017 11:10 AM IST | Updated on: Jan 10, 2017 11:10 AM IST

نئی دہلی۔ یوپی کی مسلم سیاست میں مسلسل قیاس آرائیوں کو جنم دے رہی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ بیان بازی کی وجہ سے ہمیشہ میڈیا میں جگہ بنانے والی اے آئی ایم آئی ایم پہلے مرحلے میں چار تو دوسرے مرحلے میں سات امیدواروں کو ہی الیکشن لڑا رہی ہے۔ کل دیر شام جاری ہوئی اے آئی ایم آئی ایم کی فہرست کئی سوال کھڑے کر گئی ہے۔

اے آئی ایم آئی ایم کے اترپردیش کے صدر شوکت علی نے پیر کی دیر شام اسمبلی انتخابات 2017 کے لئے امیدواروں کا اعلان کر دیا۔ پارٹی کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کی مانیں تو پہلے مرحلے کے لئے چار امیدوار میدان میں اتارے گئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں آگرہ جنوب، علی گڑھ کی کول، فیروز آباد اور کیرانہ سیٹ سے امیدوار اتارے گئے ہیں۔

اویسی نے بھی یوپی کے میدان میں اتارے اپنے 11 امیدوار، نہیں کریں گے کسی سے اتحاد!۔

گیٹی امیجیز

اگر 2012 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر نگاہ ڈالیں تو کیرانہ اور کول سیٹ پر ایس پی کا قبضہ ہے تو آگرہ جنوب اور فیروز آباد سیٹ پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔ حالانکہ کیرانہ سیٹ بھی بی جے پی کے قبضے میں تھی۔ لیکن ضمنی انتخابات کے دوران یہ سیٹ سماج وادی پارٹی کے پالے میں آ گئی۔

اے آئی ایم آئی ایم نے دوسرے مرحلے کے لیے جن سات سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے ہیں وہ بھی خاصے چونکانے والے ہیں۔ سات میں سے ایک سیٹ پر بی جے پی تو دو سیٹ پر بی ایس پی کا قبضہ ہے۔ باقی چار سیٹیں سماج وادی پارٹی کے پاس ہیں۔ یہ سات نشستیں ہیں سہارنپور بی ایس پی، بیہت بی ایس پی، كنڈركی ایس پی، بریلی شہر بی جے پی، امروہہ ایس پی، مرادآباد شہر ایس پی اور مراد آباد دیہات ایس پی ہیں۔

خاص بات یہ ہے کہ یہ تمام وہ سیٹیں ہیں جہاں مسلم ووٹروں کی تعداد اچھی خاصی بتائی جاتی ہے۔ دوسری طرف فہرست جاری ہونے کے بعد اے آئی ایم آئی ایم کا کسی بھی بڑی پارٹی کے ساتھ اتحاد ہونے کی توقعات کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ لیکن سیٹوں کے حساب کو دیکھیں تو ابھی پیس پارٹی اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان اتحاد کی بحثیں ختم نہیں ہوئی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز