نکاح نامہ میں تبدیلی کیلئے سپریم کورٹ کے مشورہ کو مسلم پرسنل لا بورڈ نے کیا تسلیم ، قاضیوں کو جلد جاری کرے گا ایڈوائزری

May 18, 2017 07:01 PM IST | Updated on: May 18, 2017 07:01 PM IST

نئی دہلی: ملک کی سپریم کورٹ نے گزشتہ چھ دنوں سے تین طلاق کے معاملے پر سماعت کرنے کے بعد آج اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ۔ سماعت کے دوران آج سپریم کورٹ کا مشورہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے قبول کرلیا ہے اور کہا کہ وہ جلد ہی تمام قاضی کو یہ ایڈوائزری جاری کرے گا کہ نکاح نامہ میں شامل کیا جائے کہ دولہا اور دلہن ایک مرتبہ میں تین طلاق نہیں لے سکیں گے۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلہ میں مسلم پرسنل لا بورڈ سے ایک ہفتے میں حلف نامہ داخل کرنے کیلئے کہا ہے۔

قبل ازیں بورڈ کی جانب سے کپل سبل نے کہاکہ تین طلاق 1400 سال پرانی رسم ہے اور یہ قبول کی گئی ہے۔ یہ معاملہ عقیدہ سے وابستہ ہے ، جو 1400 سال سے چل رہا ہے ، تو یہ غیر اسلامی کس طرح ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا فرض کیکئے کہ میری آستھارام میں ہے اور میرا یہ ماننا ہے کہ رام ایودھیا میں پیدا ہوئے، اگر رام کو لے کر آستھا پر سوال نہیں اٹھائے جا سکتے ، تو تین طلاق پر کیوں؟ یہ سارا معاملہ آستھا سے وابستہ ہے۔ پرسنل لاء قرآن اور حدیث سے آیا ہے، کیا کورٹ قرآن میں لکھے ہر الفاظ کی تشریح کرے گا؟۔

نکاح نامہ میں تبدیلی کیلئے سپریم کورٹ کے مشورہ کو مسلم پرسنل لا بورڈ نے کیا تسلیم ، قاضیوں کو جلد جاری کرے گا ایڈوائزری

خیال رہے کہ اس سلسلہ میںگزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند نے بھی ایک فتوی جاری کیا تھا ، جس میں اس نے کہا تھا کہ اگر خواتین چاہتی ہیں تو نکاح نامہ میں تین طلاق کو مسترد کرسکتی ہیں اور شرعی طور پر یہ جائز ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز