تین طلاق پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہوگا ، فیصلہ کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی : مولانا ولی رحمانی

May 21, 2017 02:40 PM IST | Updated on: May 21, 2017 02:44 PM IST

نئی دہلی: تین طلاق کے معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہونے کے بعد آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے عدالت عظمی کی طرف سے اپنے کے حق میں فیصلہ آنے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسے وہ قبول کرے گا اور فیصلہ آنے کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ '' عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ہی کچھ واضح طور پر کہا جا سکے گا۔ ویسے ہم نے عدالت میں اپنا موقف مضبوطی کے ساتھ رکھا ہے اور ایسے میں بہتر کی ہی امید کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ '' عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا، وہ ہم تسلیم کریں گے۔ عدالت کوئی آنکھ بند کر کے فیصلہ سنانے نہیں جا رہی ہے، یہ طے ہے، یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس میں کوئی پیچیدگی ہو، عدالت نے جو کہا وہ ہم نے کر دیا۔ '' واضح رہے کہ چیف جسٹس جسٹس جے ایس كھیهر کی قیادت والی سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے تین طلاق کے معاملہ پر تمام فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔

تین طلاق پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہوگا ، فیصلہ کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی : مولانا ولی رحمانی

file photo

یہ پوچھے جانے پر کہ عدالت کا فیصلہ بورڈ کے موقف کے خلاف آنے پر کیا 1980 کی دہائی کے شاہ بانو کیس کی طرح ہی حالات پیدا ہو سکتے ہیں ، تو مولانا رحمانی نے کہا کہ '' اس بارے میں کچھ کہنا جلد بازی ہوگی۔ اس وقت کے حالات دیگر تھے، اس وقت حالات دیگر ہیں۔ جب تک عدالت کا فیصلہ نہیں آ جاتا ، اس وقت تک کچھ کہنا یا فیصلہ کرنا مشکل ہے۔

تین طلاق پر ملک کی میڈیا کے رخ کی شدید تنقید کرتے ہوئے مولانا رحمانی نے کہا کہ '' میڈیا کے رخ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان کا سب سے اہم معاملہ تین طلاق ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ٹی وی پر یہی بحث ہورہی ہے۔ میڈیا کا اپنا بزنس ہے اور وہ اسی کو ذہن میں رکھ کر بحث کر رہا ہے۔ '' بورڈ پر اٹھائے جا رہے سوالات کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ '' بورڈ کے بارے میں لوگ اپنے اپنے اعتبار سے باتیں کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ بورڈ سخت ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ وہ اصلاح کرنا چاہتا ہے۔ لوگوں کو جو کہنا ہے وہ کہیں گے، ہم لوگوں کو بولنے سے تو نہیں روک سکتے۔

مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ تین طلاق کے معاملہ پر مسلم سماج کا موقف پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' مسلم سماج کا موقف واضح ہے، بورڈ کے حق میں چار کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دستخط کئے ہیں، ان میں دو کروڑ 72 لاکھ خواتین کے دستخط شامل ہیں، اس سے واضح ہے کہ سماج کا موقف کس طرف ہے۔ '' تین طلاق کے معاملہ پر پاکستان اور کچھ دیگر مسلم ممالک کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کا حوالہ دیے جانے پر مولانا رحمانی نے کہا کہ '' غلط حقائق پیش کئے جا رہے ہیں، چیزیں موجود ہیں، لیکن صحیح طریقہ سے بتائی نہیں جا رہی ہیں۔ لوگ پاکستان کا نام لے رہے ہیں، ہم کوئی پاکستان کے دم چھلے تھوڑے ہیں۔

'' ملک میں گئوركشا کے نام پر جاری تشدد کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے رحمانی نے کہا کہ '' اس طرح کے واقعات انتہائی سنگین ہیں، اس پر بحث نہیں ہو رہی ہے، سبھی خاموش ہیں، اس کو لے کر حکومتوں کو سخت اقدامات کرنے چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز