بابری مسجد مسئلہ کے حل کیلئے مسلم پرسنل لا بورڈ سے بات چیت کرے گا اکھاڑا پریشد : مہنت نریندر گری

May 14, 2017 03:48 PM IST | Updated on: May 14, 2017 03:48 PM IST

الہ آباد(مشتاق عامر ) اکھاڑا پریشد نے بابری مسجد کے تعلق سے اہم بیان دیا ہے ۔ اکھاڑا پریشد نے کہا ہے کہ بابری مسجد -رام جنم بھومی تنازع کو باہمی گفت و شنید کے ذریعہ حل کرنے کے لئے آ ل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے براہ راست گفتگو کی جائے گی ۔اکھاڑا پریشد نے بابری مسجد مقدمہ کے کلیدی فریق ہاشم انصاری کے اہل خانہ کو بھی اپنے ساتھ لیا ہے۔ اکھاڑا پریشد نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کو بات چیت کے لئے جلد رضامند کر لے گا۔

قابل ذکر ہے کہ اکھاڑا پریشد شروع سے ہی بابری مسجد رام جنم بھومی مسئلے کو آپسی بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتا رہا ہے ۔ تاہم ملک کی صورتحال کے پیش نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا موقف رہا ہے کہ بابری مسجد رام جنم بھومی تنازع کا حل عدالت کے ذریعے ہونا چاہئے ۔ اکھاڑا پریشد نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اب اس مسئلہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے براہ راست بات کی جائے گی۔

بابری مسجد مسئلہ کے حل کیلئے مسلم پرسنل لا بورڈ سے بات چیت کرے گا اکھاڑا پریشد : مہنت نریندر گری

خیال رہے کہ ماضی میں اکھاڑا پریشد نے بابری مسجد مقدمہ کے کلیدی فریق ہاشم انصاری سے کئی مرتبہ ملاقاتیں کی تھیں اور ہاشم انصاری کے انتقال کے بعد اب ان کے پوتے اخلاق انصاری بھی اس معاملہ میں اکھاڑا پریشد کے ساتھ نظرآرہے ہیں ۔ا نہوں نے کہا کہ کچھ لوگ بابری مسجد کے مسئلہ کو الجھانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ معاملہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے۔

بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ میں اکھاڑا پریشد فریق ثانی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اکھاڑا پریشد کی اب کوشش ہے کہ یہ تنازع عدالت کے باہر آپسی رضامندی سے حل ہو جائے ، اس کے لئے اکھاڑا پریشد مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا کو اعتماد میں لینے کی کوشش کررہا ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز