ایودھیا میں کوئی بابری مسجد نہیں تھی، جو گرایا وہ محض ایک ڈھانچہ تھا : اکھاڑہ پریشد مہنت نریندر گری

Oct 22, 2017 01:46 PM IST | Updated on: Oct 22, 2017 01:46 PM IST

الہ آباد: جیسے جیسے کچھ ریاستوں کے انتخابات نزدیک آ رہے ہیں، بی جے پی خواہ براہ راست طور پر رام جنم بھومی -بابری مسجد معاملہ کو نہ اٹھا رہی ہو لیکن اس کو دوسرے پلیٹ فارم سے گرما رہی ہے ۔ اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد اپنے سابقہ موقف سے انحراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایودھیا میں بابری مسجد کبھی تھی ہی نہیں ۔ وہاں صرف رام کا مندر تھا ، تو وہیں الہ آباد میں موجود نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریا نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ایسے میں فیصلہ آنے تک ریاستی حکومت متنازع زمین پر کسی طرح کا کوئی ترقیاتی کام نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ اس پہلے اکھاڑا پریشد نے بابری مسجد -رام جنم بھومی کے مسئلے کا بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی وکالت کی تھی۔اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری اس کے لئے کئی مرتبہ بابری مسجد کے پیرو کار مرحوم ہاشم انصاری سے بھی ملاقات کر چکے تھے ۔ الہ آباد میں میڈیا میں سے بات چیت کرتے ہوئے اکھاڑہ پریشد کے صدر مہنت نریندر گری نے صاف طور سے کہا کہ ایو دھیا میں کوئی مسجد نہیں تھی اور مسجد کے نام پر جس کو منہدم کیا گیا تھا وہ محض ایک ڈھانچہ تھا ۔ مہنت نریندر گری نے یہ بھی کہا کہ تاج محل کے تنازع میں پھنسنے کی بجائے اب کاشی وشوا ناتھ مندر کی بات کرنی چاہئے ۔

ایودھیا میں کوئی بابری مسجد نہیں تھی، جو گرایا وہ محض ایک ڈھانچہ تھا : اکھاڑہ پریشد مہنت نریندر گری

وہیں یو پی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریا نے کہا کہ ایودھیا کی رام جنم بھومی کی متنازع اراضی کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی ۔ ای ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیشو پرساد موریا نے کہا کہ رام جنم بھومی کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ ایسے میں فیصلہ آنے تک ریاستی حکومت متنازع زمین پر کسی طرح کا کوئی ترقیاتی کام نہیں کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دیوالی کے موقع پر ایودھیا میں ہونے والے ’’ دیپ اتسو ‘‘ پروگرام کو بھی متنازع اراضی کو باہر رکھا گیا تھا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز