سماج وادی پارٹی صلح کی طرف، صدر کا عہدہ چھوڑ کر ملائم کو راضی کر سکتے ہیں اکھلیش

Jan 03, 2017 03:13 PM IST | Updated on: Jan 03, 2017 03:13 PM IST

لکھنئو۔ الیکشن کمیشن میں اپنا موقف رکھنے کے بعد ایس پی سپریمو ملائم سنگھ یادو لکھنو لوٹ آئے ہیں۔ اس درمیان خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ ملائم اور اکھلیش کے درمیان صلح ہو سکتی ہے۔ انہی خبروں کے درمیان منگل کو سی ایم اکھلیش یادو ملائم سنگھ سے ملنے ان کی رہائش گاہ پہنچے۔ سماج وادی پارٹی کے مستقبل کو لے کر یہ ملاقات کافی اہم مانی جا رہی ہے۔

ادھر شیو پال سنگھ یادو نے کہا کہ مجھے ملاقات کے بارے میں پتہ نہیں ہے، اگر نیتا جی بلاتے ہیں تو ضرور جاؤں گا۔ شیو پال کا بیان آنے کے کچھ دیر بعد ہی خود شیو پال اپنے بیٹے آدتیہ کے ساتھ ملائم کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ابھی بھی ملائم اور اکھلیش میں صلح کی گنجائش بنی ہوئی ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے حق سے لے کر تنظیم میں تبدیلی اور کچھ اہم لوگوں کی پارٹی سے رخصتی کے حقوق ملنے پر اکھلیش اپنے والد ملائم کے سامنے سرینڈر کر سکتے ہیں۔ یہ بھی بحث ہے کہ باپ بیٹے اس پر متفق ہیں کہ اکھلیش یادو ایس پی کا صدر عہدہ چھوڑ دیں گے۔

سماج وادی پارٹی صلح کی طرف، صدر کا عہدہ چھوڑ کر ملائم کو راضی کر سکتے ہیں اکھلیش

ذرائع کے مطابق اکھلیش کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ شیو پال یادو کو قومی سیاست میں بھیج دیا جائے، کیونکہ ریاست میں رہ کر دونوں ساتھ کام نہیں کر سکتے۔ غور طلب ہے کہ اکھلیش امر سنگھ کے ساتھ ہی شیو پال کے اوپر بھی پارٹی کے خلاف سازش رچنے کا الزام عوامی طور پر لگا چکے ہیں۔ وہیں منگل کو اکھلیش خیمے کی طرف سے پروفیسر رام گوپال یادو نے الیکشن کمیشن میں دعوی پیش کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سائیکل چناو نشان ان کا ہے اور پارٹی پر بھی انہی کا حق ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز