سماجوادیوں کا کام بولتا ہے، وہ صرف ریڈیو اور ٹی وی پر من کی بات نہیں کرتے: اکھلیش

Feb 25, 2017 07:24 PM IST | Updated on: Feb 25, 2017 07:24 PM IST

سدھارتھ  نگر/ بستی۔  سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اور اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سماجوادیوں کا کام بولتا ہے اور وہ صرف ریڈیو اور ٹی وی پر من کی بات نہیں کرتے ہیں۔ مسٹر اکھیلیش یادو نے آج سدھارتھ نگر اور بستی میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماجوادیوں کا کام بولتا ہے۔ سماج وادی جو کہتے ہیں اسے کرتے ہیں۔ وہ صرف من کی بات نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی اسمبلی الیکشن کے بعد بی جے پی کے لیڈروں کو دوبارہ راکھی باندھیں گي۔ ایسا وہ پہلی بار نہیں کریں گی بلکہ اس سے پہلے بھی تین بار وہ بی جے پی کے ساتھ رکشا بندھن کا تہوار منا چکی ہیں۔ بی ایس پی نے اپنے دور حکومت میں ترقیاتی کاموں کے پیسے ہاتھیوں کے مجسمے قائم کرنے میں لگا دیا۔ اکھیلیش یادو نے کہا کہ پہلے لیپ ٹاپ کو کھلونہ کہنے والی بی جے پی نے اپنے منشور میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کا باقاعدہ وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے لیپ ٹاپ بانٹنے میں کوئی تفریق نہیں کی ، بلکہ مستحق طلبہ و طالبات کو لیپ ٹاپ تقسیم کئے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ کسی خاص طبقہ کے طلبہ و طالبات کو ایس پی حکومت نے لیپ ٹاپ دے دیا"۔

سماجوادیوں کا کام بولتا ہے، وہ صرف ریڈیو اور ٹی وی پر من کی بات نہیں کرتے: اکھلیش

فائل فوٹو

وزیر اعلی نے کہا کہ ریاست کے شہری علاقوں میں 24 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 18 سے بیس گھنٹے بجلی دی جا رہی ہے۔ ریاست میں سماج وادی پارٹی حکومت بننے پر کسانوں کو 24 گھنٹے بجلی دینے کا بندوبست کیا جائے گا۔ اترپردیش میں 55 لاکھ خاندانوں کو پنشن دی جا رہی ہے۔ سماج وادی پنشن کو 500 روپے سے بڑھاكر ایک ہزار روپے کر دیا جائے گا۔ میرٹ کی بنیاد پر ایک لاکھ لوگوں کو سرکاری نوکری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان سے ریاست کی ترقی کا حساب و کتاب مانگنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کو بیرون ملک میں جمع اور نوٹ بندي کے بعد ملنے والے کالے دھن کی تفصیلات ملک کے عوام کو دینا چاہیے۔ ایس پی اور کانگریس کے اتحاد نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے لیڈروں کا بلڈ پریشر بڑھا دیا ہے۔ چار مرحلے کے انتخابات کے بعد ان کا بلڈ پریشر مزید بڑھ گیا ہوگا۔ ترقی کے معاملے پر وزیر اعظم آمنے سامنے بحث کر لیں کہ انہوں نے ریاست کے لئے کیا کچھ کیا اور سماجوادیوں نے کیا کام کئے۔ ریاست کےعوام نے انہیں بھی لوک سبھا میں واضح اکثریت سے جیت دلائي ہے۔ اس کے بدلے انہوں نے کیا دیا؟۔

وزیر اعلی نے کہا کہ "وزیر اعظم نریندر مودی کو 2014 میں کئے گئے وعدوں کے مطابق بیرون ملک جمع کالے دھن اور نوٹ بندي کے بعد ملنے والے کالے دھن کا حساب و کتاب دینا چاہیے اور میں انہیں ترقی کا حساب دیتا ہوں"۔ پیسہ سیاہ و سفید نہیں ہوتا، لین دین سیاہ سفید ہوتا ہے۔ نوٹ بندي کے فیصلے سے پورے ملک کی معیشت تباہ ہو گئی ہے۔ پیسے کے لئے لائن میں کھڑی خاتون نے ایک بچے کو جنم دیا۔ بینک کے لوگوں نے اس کا نام کوش پال رکھ دیا۔ ایس پی نے اسے تلاش کر نکالا ۔ وہ عورت ایک غریب خاندان کی تھی۔ اس کودو لاکھ روپے کی مدد دی گئی۔ ریاست میں کانگریس- سماجوادی اتحاد کی حکومت بننے کا دعوی کرتے ہوئے مسٹر اکھیلیش یادو نے کہا کہ کانگریس کا ساتھ حاصل کرنے کے بعد یہ ریاست چوطرفہ ترقی کرے گی۔ دونوں مل کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی دلوں کو توڑ رہی ہے اور معاشرے میں نفرت پھیلا رہی ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ سماج وادی -کانگریس گٹھ بندھن فرقہ وارانہ طاقتوں کو شکست دینے کے لئے کیا گیا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں ملک میں نسل پرستی اور مذہب کی سیاست کرکے ایک دوسرے کے درمیان زہر گھولنے کا کام کر رہی ہیں۔ اس دور میں فرقہ واریت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور قومی اتحاد کے لئے خطرہ بن گئی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز