علی گڑھ انکاونٹر: پولیس نے اے ایم یو کے دو سابق طلبہ لیڈران پر درج کیا مقدمہ

علی گڑھ پولیس نے علی گڑھ یومسلم نیورسٹی کے دو سابق طلبہ یونین صدور کے خلاف اغوا کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے۔

Sep 28, 2018 04:39 PM IST | Updated on: Sep 28, 2018 06:23 PM IST

علی گڑھ پولیس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دو سابق طلبہ یونین صدر پر اغوا کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے انکاونٹر میں مارے گئے نوشاد اور مستقیم کی والدہ کا اغوا کیا ہے۔ جمعرات کے روز دہلی سے کچھ لوگ اور دونوں سابق طلبہ یونین صدر انکاوٹر میں مارے گئے نوجوانوں کے اہل خانہ سے ملنے ان کے گھر گئے تھے۔

وہیں ملزم بنائے گئے فیض الحسن اور مشکور کا کہنا ہے کہ وہ دہلی سے آئے کچھ لوگوں کے ساتھ 27ستمبر کو اترول، علی گڑھ نوشاد اور مستقیم کے انکاونٹر کے بعد اہل خانہ سے ملنے پہنچے تھے۔ سبھی لوگوں نے گھروالوں اور پڑوسیوں سے بات چیت کی۔ اس دوران ہم ان کی بات رکھنے کے لئے ہلاک شدہ نوجوانوں مستقیم کی ماں شبانہ اور نوشاد کی ماں شاہین عرف رانی کو ان کی مرضی کے ساتھ دہلی لے آئے‘‘۔

علی گڑھ انکاونٹر:  پولیس نے اے ایم یو کے دو سابق طلبہ لیڈران پر درج کیا مقدمہ

فائل تصویر

لیکن دیر رات پولیس نے فیض الحسن اور مشکور احمد عثمانی پر شبانہ شاہین کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مستقیم کی بیوی نے اغوا کی تحریر دی ہے۔ وہیں رات میں فیض الحسن اور مشکور نے سوشل میڈیا پر نوشاد کی ماں کا ویڈیو جاری کر دیا ہے۔

ویڈیو میں نوشاد کی ماں یہ کہتے ہوئے نظر آرہی ہیں کہ ’وہ صحیح سلامت ہیں۔ وہ خود اپنی مرضی سے بیٹے کی موت کا انصاف مانگنے کے لئے مودی جی سے ملنے آئی ہیں۔ اس کی بیٹی حنا سے زبردستی انگوٹھا لگوا کر مقدمہ درج کیا گیا ہے‘‘۔

Loading...

وہیں اس بارے  میں فیض الحسن، سابق اے ایم یو طلبہ یونین کا کہنا ہے کہ ’ہم لوگ نوشاد کی امی کو ان کی مرضی سے لائے ہیں۔ وہ میڈیا کے سامنے بتائیں گی کہ انکاونٹر کا سچ کیا ہے۔ نوشاد کی امی ایک دو روز میں گھر آجائیں گی‘‘۔

دوسری جانب مشکور احمد اعثمانی، سابق صدر اے ایم یو طلبہ یونین کا کہنا ہے کہ ’علی گڑھ پولیس مستقیم اور نوشاد کے گھروالوں کو پریشان کر رہی ہے۔ انہیں کسی سے بھی ملنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ ہم لوگ فیکٹ فائٹنگ رپورٹ تیار کریں گے پھر میڈیا سے روبرو ہوں گے‘‘۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز