علی گڑھ انکاونٹر: 6 سال کا لڑکا کیسے چلا سکتا ہے طمنچہ؟

علی گڑھ کے تھانہ ہردواگنج علاقہ میں 20 ستمبر کو پولیس لائیو انکاونٹر میں مارے گئے نوشاد اور مستقیم پولیس ریکارڈ کے مطابق سزا یافتہ مجرم تھے۔

Oct 01, 2018 03:45 PM IST | Updated on: Oct 01, 2018 03:51 PM IST

علی گڑھ کے تھانہ ہردواگنج علاقہ میں 20 ستمبر کو پولیس نے لائیو انکاونٹر میں دو نوجوانوں کو مار گرایا تھا۔ پولیس ریکارڈ میں انکاونٹر میں مارے گئے نوشاد اور مستقیم سزا یافتہ مجرم تھے۔ 11 سال پہلے غازی آباد ضلع کورٹ نے ان دونوں کو 10-10 سال کی جیل کی سزا سنائی تھی جس میں سے سات سال کی سزا یہ دونوں ڈاسنا جیل میں کاٹ چکے تھے۔

پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق، 2007 میں ان دونوں نے لوگوں کو یرغمال بنا کر لوٹ کی واردات کو انجام دیا تھا۔ لوٹ کے دوران انہوں نے ایک شخص کو گولی بھی ماری تھی۔ علی گڑھ میں تصادم سے ایک ماہ پہلے ان پر دو سادھووں سمیت چھ لوگوں کے قتل کا الزام بھی پولیس نے لگایا تھا۔ علی گڑھ پولیس کی مانیں تو مڈبھیڑ سے کچھ گھنٹے پہلے دونوں نے بائیک بھی لوٹی تھی۔

علی گڑھ انکاونٹر: 6 سال کا لڑکا کیسے چلا سکتا ہے طمنچہ؟

انکاونٹر کے دوران بدمعاشوں سے مورچہ لیتا ایک سپاہی: فائل فوٹو۔

Loading...

حالانکہ مارے گئے نوشاد کی ماں نے الزام لگایا ہے کہ، "پولیس بالکل جھوٹ بول رہی ہے۔" پولیس گڑھ مکتیشور، ہاپوڑ میں جس وقت کا واقعہ بتا رہی ہے اس وقت میرے بیٹے نوشاد کی عمر صرف 6 سال تھی۔  انکاونٹر کے وقت نوشاد 17 سال کا تھا۔ ایسے میں ایک 6 سالہ لڑکا کس طرح طمنچہ چلا کر راہ چلتے ہوئے لوگوں کو لوٹ سکتا ہے۔ ̓

یہ بھی پڑھیں: علی گڑھ انکاونٹر: پولیس نے اے ایم یو کے دو سابق طلبہ لیڈران پر درج کیا مقدمہ

دوسری طرف، مستقیم کی ماں شبانہ علی گڑھ  پولیس پر الزام لگاتی ہیں: "2007 کے جس واقعہ سے پولیس میرے 22 سالہ بیٹے مستقیم کو جوڑ رہی ہے اس وقت مستقیم  کی عمر صرف 11 سال تھی۔ پولیس یہ بھی الزام لگا رہی ہے کہ ہمارے بیٹے ڈاسنا  جیل میں 7-7 سال کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں تو پولیس یہ بتائے کہ 11 اور 6 سال کے نابالغ بچے اصلاح اطفال گھر کی بجائے ڈاسنا جیل میں کیسے سزا کاٹ آئے۔

علی گڑھ میں انکاونٹر کرنے والی ٹیم: فائل فوٹو علی گڑھ میں انکاونٹر کرنے والی ٹیم: فائل فوٹو

شاہین اور شبانہ کا یہ بھی الزام ہے کہ پولیس انکاونٹر سے پہلے ہمارے گھر سے آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ اور بینک پاس بک تک اٹھا لائی ہے۔ ہمارے گھر میں کسی بھی طرح کا کوئی کاغذ نہیں چھوڑا ہے۔

وہیں، ان الزامات کے سلسلہ میں اترولی علاقے کے سرکل افسر پرشانت سنگھ کا کہنا ہے کہ : "ہماری تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ یہ لوگ پرانے اور سزا یافتہ مجرم ہیں۔" ان کی پرانی جرم کی تاریخ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، ان کی عمر فی الحال تقریبا 30 سال کے آس پاس ہے۔

علی گڑھ کے چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) ڈاکٹر ایم این اگروال کا کہنا ہے کہ ہڈیوں سے، دانتوں سے اور جسم کی بناوٹ کے ساتھ ہی اور دیگر کئی طریقوں سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ انسان کی عمر کتنی ہے۔ اگر وہ شخص مر گیا ہے اور اسے زمین میں دفنایا جا چکا ہے تو بھی اس کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کر کے اس کی عمر کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

ناصر حسین کی رپورٹ

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز