ناکامیوں اور عوام کی پریشانیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اٹھایا جاتا ہے یکساں سول کوڈ کا معاملہ : پروفیسر شکیل صمدانی

Feb 22, 2017 09:55 PM IST | Updated on: Feb 23, 2017 10:50 PM IST

علی گڑھ : یونیفارم سول کوڈ کا شوشہ بار بار اس لئے اٹھایا جاتا ہے تاکہ حکومت اپنی ناکامیوں اور عوام کی پریشانیوں پر پردہ ڈال سکے اور ملک کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرسکے، یونیفارم سول کوڈ ایک آئینی اور قانونی مسئلہ ہے اور اس پر صرف قانون کو سامنے رکھ کر بات کرنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار اسٹیٹ آفیسر (گزٹیڈ) اور شعبہ قانون کے معروف استاد پروفیسر شکیل صمدانی نے شری وارشنے کالج میں یونیفارم سول کوڈ: افسانہ یہ حقیقت موضوع پر توسیعی خطبہ دیتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے کثیر المذہب اور مختلف اقدار وروایات رکھنے والے ملک میں تقریباً نا ممکن ہے کیونکہ ایسا کرنا ملک کے سبھی طبقات کو مزید پریشانی میں ڈالنا ہے۔ پروفیسر صمدانی نے کہا کہ گوکہ یونیفارم سول کوڈ کے مخالفت سبھی مذاہب کے ماننے والے کر رہے ہیں لیکن میڈیااور سیاسی لیڈران اس مسئلہ کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں جیسے مخالفت صرف مسلمان کر رہے ہوں۔ جس ہندو سول کوڈ کو بہت متوازن اور عورتوں کے حق میں بتایا جاتا ہے کہ اگر اس کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بڑی مشکل اور بڑی مخالفت کے بعد اس بل پر اس وقت کے صدر جمہوریہ نے دستخط کئے تھے اور اس قانون میں اتنی ترمیمات کر دی گئیں کہ یہ تقریباً پرانے ہندو قانون کی طرح ہی ہوگیا اس لئے کہ یہ کہنا کہ ہندو کوڈ بہت ماڈرن، متوازن اور عورتوں کے حق میں ہے ،بالکل غلط ہے۔

پروفیسر شکیل صمدانی نے زور دے کر کہا کہ مذہب اسلام دنیا کا وہ پہلا مذہب ہے جس نے عورتوں کو وہ حقوق دیئے جو دوسری مذاہب کی عورتوں کو تقریباً تیرہ سو سال کے بعد ملے۔ اسلام نے ہی سب سے پہلے عورتوں کو طلاق، وراثت اور مہر کا حق دیا اس لئے مذہبِ اسلام کو عورتوں کے تعلق سے دقیا نوسی اور پچھڑا کہنا اگر احمقانہ اور بچکانہ نہیں ہے تو کیا ہے؟ پروفیسر صمدانی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج جو لوگ مسلم پرسنل لاء میں ترمیم کی بات کر رہے ہیں اور مسلمان عورتوں کی مظلومیت کی بات رہے ہیں وہ بذات خود انتہائی داغدارشبیہ رکھتے ہیں اور ان کے کردار پر نہ جانے کتنے سیاہ دھبے ہیں۔ اخیر میں پروفیسر صمدانی نے غیر مسلم طلبہ اور طالبات کے ہجوم میں کہا کہ ہمارا ملک کا آئین اور عدلیہ دنیا کی چند بہترین آئین اور عدلیہ میں سے ایک ہیں۔ دستور ہند میں سبھی کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور اقلیتوں کو ملک میں ترقی کرنے کے لئے بھرپور مواقع حاصل ہیں۔ اب یہ اقلیتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مراعات اور حقوق کا استعمال کرتے ہوئے ترقی کی منزلیں طے کریں۔ پروفیسر صمدانی نے طلبہ اور طالبات سے اس بات کا عہد لیا کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت اور فرقہ پرستی کو کم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ملک ترقی کی طرف گامزن ہوسکے کیونکہ جس ملک میں لاء قانونیت پھیلتی ہے وہ بہت جلدی ترقی کی راہ سے ہٹ کر تنزلی کی طرف چلا جاتا ہے، اس لئے ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ طلبہ اور طالبات و نوجوان فضول کے معاملات میں نہ الجھیں اور مثبت سوچ کو فروغ دیں۔

ناکامیوں اور عوام کی پریشانیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے اٹھایا جاتا ہے یکساں سول کوڈ کا معاملہ : پروفیسر شکیل صمدانی

صدر جلسہ پروفیسر کوشل کشور نے کہا کہ صمدانی صاحب ایک جادو گر ہیں جنہوں نے قانون کی فہم اور اپنے فن خطابت سے بچوں کو اس حساس موضوع پر جو جانکاری دی ہے وہ شاید پوری زندگی نہیں بھول پائیں گے اور صمدانی صاحب کو بار بار اسی طرح اپنے پروگراموں میں بلاتے رہے ہیںگے۔ اس پروگرام کی نظامت ڈاکٹر فرید خان نے کی اور مہمانان کا استقبال ڈاکٹر شاہ رازق خالد نے کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر وی پی پانڈے، ڈاکٹر کنور پرمود سینانی، ڈاکٹر شری بابو، ڈاکٹر تبسم جہاں وغیرہ موجود تھے۔ توسیعی خطبہ کے بعد سنجو بجاج، ونے سنگھانیا، وشال دیش بھگت، سچن جین، وکاس، شیام، سچن گوڑ، کانہا ٹھاکر، امن پرتاپ، ہریش جادون، جیتو راج پوت، وپل کمار اور سونیکا اگروال وغیرہ نے سوالات پوچھے اور پروگرام کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور تعاون دیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز