تین طلاق : مودی حکومت کا بل ناقابل قبول ، شریعت کے خلاف اور پرسنل لا میں کھلی مداخلت : مسلم پرسنل لا بورڈ

میٹنگ میں بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی کے علاوہ سیکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی ، مولانا فضل الرحیم اور مولاناسلمان حسینی ندوی وغیرہ نے شرکت کی ۔

Dec 24, 2017 05:15 PM IST | Updated on: Dec 24, 2017 10:00 PM IST

لکھنؤ : آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ نے یہاں اعلان کیا کہ شادی شدہ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق حکومت ہندکا مجوزہ بل مسلمانان ہند کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں ہے اس لئے کہ یہ بل خود مسلم خو اتین کے حقوق کے خلاف ہے، اور انکی الجھنوں ، مشکلات اور پریشانیوں میں اضافے کا سبب بن سکتاہے۔

مرکزی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ تین طلاق بل کو شریعت کے خلاف قرار دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آج کہا کہ قانون کے ذریعے مسلمانوں کے طلاق دینے کے حق کو چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بورڈ کے ترجما ن خلیل الرحمن سجاد نعمانی اور آل انڈیا اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدين اویسی سمیت مجلس عاملہ کے 50 اراکین نے یہاں منعقد ہوئے ہنگامی اجلاس میں یک زبان ہو کر کہا کہ مجوزہ بل شریعت کے خلاف ہے اور شریعت میں مداخلت کی کوشش کو قطعی قبول نہیں کیا جائےگا۔

مسٹر نعمانی نے کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی امور میں حکومت کی دخل اندازی قبول نہیں کی جائےگی۔ انہوں نے کہا مجوزہ قانون سے خواتین اور بچوں دونوں کا بھی بھلا نہیں ہوگا۔مسٹرنعمانی نے کہا چونکہ یہ بل شریعت اسلامی اور آئین دونوں کے خلاف ہے، نیز مسلم خواتین کے حقوق پر اثر انداز ہوسکتا ہے اس لئے آل انڈیا پر سنل لا بورڈ اس کے سدباب کی کوشش شروع کر چکا ہے اور آئندہ بھی ہر سطح پر بھر پور کاشش کرئے گا۔انہوں نے کہا کہ بورڈ اس معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر بل کو واپس لینے کی درخواست کرے گا۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز