طلاق ثلاثہ غیر قانونی قرار دئیے جانے کے باوجود حاملہ عورت کو تین طلاق دینے پر اظہار تشویش

بارہ بنکی۔ آل انڈیا مسلم ویمن پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ کی طرف سے روک لگائے جانے کے باوجود تین طلاق کا ایک تازہ معاملہ سامنے آنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عدالت سے اس کی سزا مقرر کرنے کی گزارش کی ہے۔

Aug 24, 2017 03:41 PM IST | Updated on: Aug 24, 2017 03:43 PM IST

بارہ بنکی۔ آل انڈیا مسلم ویمن پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ کی طرف سے روک لگائے جانے کے باوجود تین طلاق کا ایک تازہ معاملہ سامنے آنے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عدالت سے اس کی سزا مقرر کرنے کی گزارش کی ہے۔ بورڈ کی صدر شائستہ عنبر نے آج 'یو این آئی اردو' سے بات چیت میں کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ابھی منگل کو تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس پر روک لگائے جانے کے فورا بعد میرٹھ میں ایک حاملہ عورت کو تین طلاق دیئے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ، جو لوگ ایسا کریں گے انہیں کون سی سزا دی جائے گی۔ انہوں نے گزارش کی کہ سپریم کورٹ اپنے حکم کی خلاف ورزی کرنے اور تین طلاق دینے والوں کے خلاف سزا بھی مقرر کرے تاکہ اس پر موثر روک لگ سکےاور متاثرین کو انصاف ملے ۔ انہوں نے کہا کہ ویمن بورڈ اس کے لیے عرضی داخل کرکے عدالت سے اپیل بھی کرے گا۔

محترمہ شائستہ نے اس بات پر اظہار تاسف کیا کہ عدالت نے جہاں پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ تین طلاق پر قانون سازی کرے وہیں حکومت سپریم کورٹ کے حکم کو ہی قانون بتا کر اپنا پلہ جھاڑتي نظر آ رہی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تین طلاق کا معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بجائے معلق رہ جائے اور مسلم خواتین کے ساتھ ناانصافی جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کو یہ تشویش ہے کہ موجودہ صورتحال میں تین طلاق پر مسلم معاشرہ حکومت اور عدالت کے الجھاوے میں نہ پھنس جائے ۔ حکومت اور سپریم کورٹ کو اس معاملے پر اپنا رخ واضح کرنا چاہئے نہیں تو سڑکوں پر تحریک چلائی جائے گی۔

طلاق ثلاثہ غیر قانونی قرار دئیے جانے کے باوجود حاملہ عورت کو تین طلاق دینے پر اظہار تشویش

آل انڈیا مسلم ویمن پرسنل لاء بورڈ کی صدر شائستہ عنبر: فائل فوٹو

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز