سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ کے بیٹے پر ہائی کورٹ نے عائد کیا 10 لاکھ کا جرمانہ

ساتھ ہی ساتھ الہ آباد ہائی کورٹ نے ایچ ڈی ایف سی بینک کے ڈپٹی جنرل منیجر ڈی گپتا کے خلاف دھوکہ دہی کے الزام میں درج ایف آئی آر بھی منسوخ کر دی ہے۔

Feb 23, 2017 09:37 PM IST | Updated on: Feb 23, 2017 09:37 PM IST

الہ آباد : اتر پردیش ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ کے بیٹے اجے سنگھ پر 10 لاکھ کا جرمانہ عائد کیا ہے، ساتھ ہی ساتھ الہ آباد ہائی کورٹ نے ایچ ڈی ایف سی بینک کے ڈپٹی جنرل منیجر ڈی گپتا کے خلاف دھوکہ دہی کے الزام میں درج ایف آئی آر بھی منسوخ کر دی ہے۔دراصل اجے سنگھ نے اٹلانٹس ملٹی پلیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے نام پر 16 مارچ 2006 کو 25 کروڑ کا لون لیا تھا۔ بعد میں یہ لون کی رقم بڑھ کر 34 کروڑ 25 لاکھ ہو گئی۔

اجے سنگھ نے لون کی قسطوں کی ادائیگی نہیں کی ۔ اس پر کارروائی کرتے ہوئے بینک نے نوٹس جاری کر اجے کا معاہدہ منسوخ کر دیا۔ قرض کے 30 کروڑ 93 لاکھ 3 ہزار 947 روپے کے لئے بینک نے وصولی کی کارروائی شروع کی ۔ معاملہ کو رفع دفع کرنے کے لئے اجے سنگھ نے بینک کو 22 کروڑ دے کر لون ختم کرنے کی تجویز دی۔ بینک اس کے لئے راضی نہیں ہوا اور اجے سنگھ کو 30 اکتوبر 2010 کو سود کے ساتھ 40 کروڑ 33 لاکھ 42 ہزار 548 روپے کا ڈیمانڈ نوٹس بھیج دیا۔

سابق وزیر اعظم وی پی سنگھ کے بیٹے پر ہائی کورٹ نے عائد کیا 10 لاکھ کا جرمانہ

کارروائی سے ناراض اجے سنگھ نے ایچ ڈی ایف سی بینک الہ آباد ڈپٹی جنرل منیجر ڈی گپتا کے خلاف کینٹ تھانہ میں غبن اور دھوکہ دہی کے الزام میں ایف آئی آر درج کرا دی۔ڈی گپتا نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر کے ایف آئی آر کو چیلنج دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ درخواست پر سماعت کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارون ٹنڈن اور جسٹس یوسی شریواستو کی بینچ نے دھوکہ دہی کی ایف آئی آر منسوخ کر دی۔ساتھ ہی لون نہیں چکا پانے پر ایف آئی آر درج کرواکر ایچ ڈی ایف سی بینک ڈپٹی جنرل منیجر ڈی گپتا کو پریشان کرنے کے لئے اجے سنگھ پر 10 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز