الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ : امداد یافتہ تعلیمی اداروں کے ضابطے کو طے کرنا حکومت کا کام

Feb 05, 2017 05:30 PM IST | Updated on: Feb 05, 2017 05:30 PM IST

الہ آباد۔ اقلیتی تعلیمی اداروں کے انتظامی اختیارات کےمعاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلہ دیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی فل بینچ نے حکم دیا ہے کہ حکومت سے امداد یافتہ اقلیتی تعلیمی اداروں میں پرائمری کے ٹیچروں کو پچیس فیصد ریزر ویشن دیا جائے ۔ ہائی کورٹ نےکہا ہے کہ حکومت سے امداد لینے والےاقلیتی اداروں میں پچیس فیصد پروموشن کا ضابطہ آئین کی دفعہ 30 کی خلاف ورزی نہیں ہے۔عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی امداد یافتہ  تعلیمی ادارے کے معیار اور ضابطے کو طے کرنا حکومت کے دائرہ  اختیار میں آتا ہے۔عدالت نے یہ اہم فیصلہ آگرہ کے سوامی لیلا شاہ آدرش سندھی انٹر کالج کی طرف سے داخل عرضی پر دیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت سے امداد یافتہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے پرائمری سیکشن میں پچیس فیصد ٹیچروں کو پروموشن دینے سے متعلق حکومت کے ضابطے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ۔ یو پی کے اقلیتی اداروں نے اپنے آئینی حقوق کا حوالہ دے کر پرائمری سطح کے ٹیچروں کو پچیس فیصد پر وموشن دینے کے سرکاری حکم نامے کو ماننےسے انکار کر دیا تھا ۔ اقلیتی اداروں کا کہنا تھا کہ ملک کے آئین کی دفعہ 30 کی رو سے اقلیتی اداروں کو چلانے اور اس کو منظم کرنے کا اختیار انہیں حاصل ہے ۔ لہٰذا حکومت کے عام ضابطوں کا اطلاق اقلیتی اداروں پر نہیں ہوسکتا ۔

الہ آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ : امداد یافتہ تعلیمی اداروں کے ضابطے کو طے کرنا حکومت کا کام

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز