الہ آباد ہائی کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نماز کے خلاف عرضی کو کیا مسترد

Oct 04, 2017 06:56 PM IST | Updated on: Oct 04, 2017 06:56 PM IST

الہ آباد۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نماز ادا کئے جانے کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل عرضی کو عدالت نے خارج کر دیا ۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ملک کا آئین تمام  لوگوں کو اپنے اپنے مذہب پرعمل پیرا ہونے کی اجازت دیتا ہے ۔ وقت وقت پر اے ایم یو کولیکرمسلم مخالف تنظیموں اور شر پسندوں کی  جانب سے کوئی نہ کوئی ایسا شوشہ چھوڑا جاتا رہا ہے، جس سےانتشار پھیلے اور مسلمان برہم ہوں ، انکو تکلیف ہو۔ ایسا ہی ایک معاملہ اس وقت سامنے آیا جب شاشوت آنند اور چاردیگر کی طرف سے داخل عرضی میں عدالت سے کہا گیا  کہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں مذہبی رسومات اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نماز کی ا دائیگی ملک کے آئین کے خلاف ہے۔

عدالت نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی آزادی آئین کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ عدالت نے اس یونیورسٹی کے معاملے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے درخواست کو مسترد کر دیا ہے ۔ اس معاملے میں اے ایم یو طلبا کا کہنا ہے کہ کیا یوپی کے وزیر اعلی کا اپنے عہدے پر رہتے ہوئے پانچ دن تک پوجا پاٹھ جائز ہے۔ کیا سرکار کا مکھیا ایک خاص مذہب کی اگر نمائندگی کرتا ہے تو اس کو اس کی چھوٹ ہے کہ وہ سارا کام کاج چھوڑ ایسا نمائشی پوجا پاٹھ کرے، جس سے لگے کہ وہ صرف ایک مذہب خاص کا ہی نمائندہ ہے نہ کہ کل عوام کا۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نماز کے خلاف عرضی کو کیا مسترد

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز