سکھ مخالف فسادات : متاثرین کی بازآبادکاری معاملہ میں داخلہ چیف سکریٹری سے حلف نامہ طلب

Aug 10, 2017 07:11 PM IST | Updated on: Aug 10, 2017 07:11 PM IST

الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے 1984 فسادات کے شکار سکھوں کو معاوضہ اور بازآبادکاری معاملہ پر دائر کی گئی درخواست پر داخلہ چیف سکریٹری کو ذاتی حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس ارون ٹنڈن اور جسٹس کرشن سنگھ پر مشتمل بینچ نے کانپور شہر کی گرو سنگھ سبھا کی درخواست پر آج یہ حکم دیا۔

عرضی گزار کے سینئر ایڈوکیٹ امیش نارائن شرما کا کہنا ہے کہ 31 اکتوبر 1984 سکھ مخالف فسادات میں کانپور کے قدوائی نگر کے ایک کنبہ کے 14 افراد کو جلا کر مار دیا گیا تھا۔ ایسے ہی پوری ریاست میں سکھوں کی دوکانیں اور ان کے کاروباری اداروں کو بڑے پیمانہ پر نقصان پہنچایا گیا۔ حکومت نے تھوڑی راحت دی۔ مرکزی حکومت نے فسادات کا شکار سکھوں کو معاوضہ اور بازآبادکاری کے لئے 1996 میں 716 کروڑ کا پیکج دیا تھا۔ ساتھ ہی یہ طے کیا گیا کہ ایک لاکھ سے زیادہ نقصان پر ایک لاکھ اور ایک لاکھ سے کم نقصان پر 50 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ ریاست کی طرف سے دیا گیا معاوضہ کا دس گنا زیادہ دیا جائے گا۔

سکھ مخالف فسادات : متاثرین کی بازآبادکاری معاملہ میں داخلہ چیف سکریٹری سے حلف نامہ طلب

عرضی میں وورا کلدیپ پیکیج کی مانگ کی گئی ہے۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ اگر پیکیج نافذ ہو تو ہر متاثر چھوٹے کاروباری کو پانچ لاکھ اور بڑے تاجر کو دس لاکھ معاوضہ ملے گا۔ جسٹس رنگناتھ کمیشن کی رپورٹ کے تحت ملزمین کو سزا دی جائے۔ درخواست پر عدالت نے جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا ہے۔ عدالت نے درخواست کی اگلی سماعت کی تاریخ 31 اگست مقرر کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز