تاریخ کو فرقہ وارانہ نظریہ سے لکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے: پروفیسر رتن لال ہانگلو

Oct 31, 2017 08:46 PM IST | Updated on: Oct 31, 2017 08:46 PM IST

 الہ آباد۔ اپنی حقیقت پسندی کے لئے مشہور الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور تاریخ داں پروفیسر رتن لال ہانگلو نے ایک اہم بیان  دیا ہے ۔پروفیسر ہانگلو نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کے بعض سیاست داں مؤرخ  بننے کی کوشش کر رہے ہیں  ۔ اس فرقہ پرستی پر مبنی تاریخ کا خمیازہ پورے سماج کو بھگتنا پڑے گا ۔

 پروفیسر ہانگلو نے شعبہ اردو الہ آباد یونیورسٹی میں  ’’ ہندوستانی تاریخ اور ثقافت‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے سیمینار میں ’’ مسلم دور حکومت کے ہندوستانی سماج‘‘ پراپنا کلیدی خطبہ پیش کیا ۔ اس موقع پر ای ٹی وی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر رتن لال ہا نگلو نے کہا کہ اگر تاریخ کو فرقہ پرستی کے نظریے سے لکھا جائے گا تو اس کا خمیازہ پورے سماج کو بھگتنا پڑتا ہے۔ پروفیسر ہانگلو نے کہا کہ  تاریخ کو اس کے اصل حوالوں کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت  ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بعض سیاست داں مؤرخ بننے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ایسے میں تاریخ داں طبقہ حاشیہ پر جا رہا ہے ۔ مسلم دور حکومت ملک کی تاریخ کا زریں باب ہے۔ ' تاریخ کا مطالعہ اصل حوالوں کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔ طلبا کو گمراہ کن تاریخی نظریے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔

تاریخ کو فرقہ وارانہ نظریہ سے لکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے: پروفیسر رتن لال ہانگلو

الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور تاریخ داں پروفیسر رتن لال ہانگلو

دیگر مقررین نے بھی کہا کہ جو لوگ تاریخ کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں ، وہ خاصے مغالطے میں ہیں، کیوں کہ انکی یہ تمام نقل و حرکت بھی تاریخ میں درج ہو رہی ہے۔ تاریخ میں بھلے ہی کوئی باب یا دور کتنا ہی کڑوا ہو یا سہانہ، اس کو اب بدلا نہیں جا سکتا ہے۔ اس پر اگر کسی بھی طرح کے جھوٹ کا پردہ ڈالا جائیگا تو وہ زیادہ دن نہیں رہیگا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز