مذبح اور گوشت کی دکانیں بند کئے جانے کے معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے یوگی حکومت سے طلب کی معلومات

Jul 17, 2017 11:54 PM IST | Updated on: Jul 18, 2017 08:12 AM IST

لکھنؤ: اترپردیش میں مذبح اور گوشت کی دکانوں کو بند کئے جانے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے حکومت سے اب تک کی گئی کارروائی کی معلومات 24 جولائی تک جمع کرانے کو کہا ہے۔ کورٹ نے جاننا چاہا ہے کہ گزشتہ حکم کے تحت جائز مذبح اور گوشت کی دکانوں کے لائسنس جاری کئے گئے یا نہیں۔ ہائی کورٹ نے گزشتہ 12 جولائی کو کہا تھا کہ حکم پر عمل آوری میں کسی طرح کی لاپروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سپریم کورٹ کے ہدایات کے پیش نظر مذبح اور گوشت کی دکانوں کے معاملے میں پالیسی طے کرے۔

جسٹس امریشور پرتاپ شاہی اور جسٹس دياشنكر ترپاٹھی کی بینچ نے محمد مصطفی اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر آج یہ حکم دیا ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ عرضی گزاروں نے گوشت کی دکانوں کی تجدید کی مانگ کی تھی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ کہا گیا تھا کہ تجدید نہ ہو پانے کی وجہ سے گوشت کی دکانیں بند ہیں جس سے ہمیں پریشانی ہو رہی ہے۔

مذبح اور گوشت کی دکانیں بند کئے جانے کے معاملہ میں الہ آباد ہائی کورٹ نے یوگی حکومت سے طلب کی معلومات

اترپردیش میں سلاٹر ہاوس

ریاستی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ قوانین و ضوابط کے مطابق چل رہے مذبح اور گوشت کی دکانوں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ کہا گیا کہ نیشنل گرین اتھارٹی (این جی ٹی) کے قوانین کے تحت ریاستی حکومت کام کر رہی ہے۔

عرضی گزاروں کی جانب سے بھی اس معاملے میں بحث کی گئی۔ کہا گیا کہ حکومت اور میونسپل کارپوریشن جلد از جلد لائسنس جاری کرے۔کہا گیا کہ ریاستی حکومت نے مذبح اور گوشت دکانوں کے چلنے پر پابندی لگا دی ہے۔ اس سے عام لوگوں کو بہت زیادہ پریشانی ہو رہی ہے۔ عرضی گزاروں کے ذریعہ یہ بھی کہا گیا کہ کون کیا کھاتا اس میں حکومت کو کوئی مداخلت نہیں کرنا چاہئے۔ معاملے کی اگلی سماعت 26 جولائی کو ہوگی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز