وزیر اعلی محبوبہ کی وکالت کے باوجود جموں وکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تجارتی اور سفری رابطے مسدود

جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے آرپار تمام راستوں کو کھولنے کی وکالت کئے جانے کے بعد بھی جموں و کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان چلنے والی دونوں امن بسیں پیر کے روز معطل رہیں

Jul 31, 2017 06:46 PM IST | Updated on: Jul 31, 2017 06:46 PM IST

سری نگر: جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے آرپار تمام راستوں کو کھولنے کی وکالت کئے جانے کے بعد بھی جموں و کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان چلنے والی دونوں امن بسیں پیر کے روز معطل رہیں۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’سری نگر۔ مظفرآباد بس سروس کو آج مقبوضہ کشمیر کی انتظامیہ کی گذارش پر معطل کیا گیا ‘۔ ذرائع نے بتایا کہ جموں خطہ کے پونچھ سے ہر پیر کو چلنے والی پونچھ راولاکوٹ ’راہِ ملن‘ آج مسلسل چوتھی مرتبہ معطل رہی۔

انہوں نے بتایا ’پاکستان انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر کے رہائشیوں کو لیکر جارہی امن بس کے لئے دروازے نہیں کھولے‘۔ انہوں نے بتایا ’سرحد پار انتظامیہ سے مزید کاروائی کی اپیل کی گئی ہے تاکہ سرحد کے دونوں اطراف پھنسے لوگ اپنے گھروں کو واپس جاسکیں‘۔ ضلع پونچھ میں پھنسے مقبوضہ کشمیر کے رہائشیوں نے گذشتہ پیر کو بس سروس کی معطلی پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ’پونچھ راولاکوٹ بس جو کہ ہر پیر کو ضلع پونچھ اور مقبوضہ کشمیر کے ضلع راولاکوٹ کے درمیان چلتی ہے، کو چار ہفتے قبل سرحدی کشیدگی کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کے طور پر معطل کیا گیا تھا‘۔

وزیر اعلی محبوبہ کی وکالت کے باوجود جموں وکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تجارتی اور سفری رابطے مسدود

ذرائع نے سری نگر مظفرآباد بس سروس کی معطلی کے حوالے سے بتایا ’ہمیں پاکستان انتظامیہ سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں یہ کہتے ہوئے بس سروس معطل رکھنے کی استدعا کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں آج اس کے پہلے صدر سردار محمد ابراہیم خان کی چودہویں برسی کے موقع پر عام تعطیل ہے‘۔ انہوں نے بتایا ’دونوں طرف کی انتظامیہ نے بس سروس کو آج معطل رکھنے کا فیصلہ متفقہ طور پر لیا ہے‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آج سفر کرنے والے لوگوں کو فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے اور انہیں اب اگلے ہفتے چلنے والی بس میں ایڈجسٹ کرلیا جائے گا۔

دریں اثنا ایل او سی کے آر پار جموں وکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان سری نگر۔ مظفرآباد روڑ کے ذریعے ہونے والی تجارت 25 جولائی سے بدستور معطل پڑی ہوئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’سرحد پار مظفر آباد کی انتظامیہ نے 25 جولائی کو ہمیں ایک مکتوب بھیجا جس میں آر پار تجارت کو ایک ہفتے تک معطل رکھنے کی بات کہی گئی تھی ‘۔ انہوں نے بتایا ’مظفرآباد کی انتظامیہ نے مکتوب میں تجارت کی معطلی کی کوئی وجہ ظاہر نہیں کی تھی‘۔

Loading...

مظفرآباد انتظامیہ کی طرف سے آر پار تجارت کی معطلی کا فیصلہ وہاں سے آنے والے ٹرک سے ساڑھے 66 کلو گرام ہیروئن کی برآمدگی کے چار دن بعد سامنے آیا تھا۔ ذرائع نے بتایا ’ 21 جولائی کو جس ٹرک سے ہیروئین برآمد ہوئی تھی، کے ڈرائیور سید یوسف ولد علی اکبر کو حراست میں لیا گیا تھا اور اس سے پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے‘۔ ذرائع نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں آر پار کے تاجروں کے درمیان تجارت کا سلسلہ 2008 ء سے جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ تجارت ہفتے میں چار دن منگل سے لیکر جمعہ تک ہوتی ہے۔ تجارتی کی معطلی پر سرحد کی دوسری طرف ٹریڈ سینٹر چکوٹھی کے انچارج ٹی ایف او میجر(ر) طاہر کاظمی کا کہنا ہے کہ منشیات برآمدگی کے الزام کے بعد پیدا ہو نے والی صورتحال کے پیش نظر سری نگر مظفرآباد تجارت 25 جولائی کو ایک ہفتے کے لئے معطل کی گئی تاکہ اس معاملہ کی تحقیقات مکمل کر کے اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے’ ہندوستانی حکام نے اپنے وعدے کے مطابق تاحال ہمیں کسی بھی قسم کے ثبوت فراہم نہیں کیے جس وجہ سے تحقیقاتی عمل میں مشکل پیش آرہی ہیں‘۔ جموں وکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان سفری اور تجارتی رابطے اس وقت منقطع ہوکر رہ گئے ہیں جب ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ایل او سی کے آرپار مزید راستوں کو کھولنے کی وکالت کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔

محترمہ مفتی نے 29 جولائی کو سری نگر میں شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم میں اپنی جماعت پی ڈی پی کے 18 ویں یوم تاسیس کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے کہا کہ ایل او سی کے آرپار مختلف تاریخی راستوں کے بند رہنے سے کشمیری عوام ایک قید خانے میں بند ہوکر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے سری نگر مظفرآباد روڑ کے ذریعے ہورہی تجارت کا تذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس تجارت کو بند ہونے کی قطعی اجازت نہیں دیں گی۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز