امرناتھ یاتریوں پر حملہ میں ملوث لشکر طیبہ کے تین دہشت گرد گرفتار، دیگر کی شناخت کا بھی دعویٰ

Aug 06, 2017 06:03 PM IST | Updated on: Aug 06, 2017 06:03 PM IST

اننت ناگ : جموں وکشمیر پولیس نے 10 جولائی کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں امرناتھ یاتریوں کی بس پر ہونے والے حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون منیر احمد خان نے اتوار کو یہاں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امرناتھ یاتریوں کی گاڑی پر ہوئے حملے میں لشکر طیبہ ملوث تھا۔ ہم نے حملہ آوروں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے تین لشکر طیبہ دہشت گرد بلال احمد ریشی، اعجاز وگے اور ظہور احمد کو گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے حملہ آور دہشت گردوں کو گاڑی اور موٹر سائیکل فراہم کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی پر حملہ ایک مقامی اور تین پاکستانی شہریوں نے انجام دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ 10 جولائی کو سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ پر امرناتھ یاترا کی گاڑی پر ابو اسماعیل، معاویہ اور فرقان ساکنان پاکستان اور ایک مقامی دہشت گرد یاور نے حملہ انجام دیا۔ آئی جی پی نے کہا کہ دہشت گرد سی آر پی ایف یا یاتریوں بسوں میں سے کسی پر حملہ کی منصوبہ بندی کرچکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سی آر پی ایف گاڑی کے لئے بلال جبکہ یاتریوں کی گاڑی کے لئے شوکت کوڈ ورڈ مقرر کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ دراصل دہشت گردوں نے حملہ 9 جولائی کو انجام دینے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی، لیکن اس دن کسی بھی سی آر پی ایف یا یاتری کی گاڑی نے علیحدہ طور سفر نہیں کیا۔

امرناتھ یاتریوں پر حملہ میں ملوث لشکر طیبہ کے تین دہشت گرد گرفتار، دیگر کی شناخت کا بھی دعویٰ

amarnath yatra file photo pti

مسٹر خان نے کہا کہ حال ہی میں مارے گئے دو لشکر طیبہ دہشت گردوں کی یاتری گاڑی پر حملے میں ملوث ہونے کی تحقیقات ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار شدہ تین دہشت گردوں نے یاتری گاڑی پر حملہ انجام دینے والے چار دہشت گردوں کو کھڈونی اور سری گفوارہ میں شیلٹر فراہم کیا تھا۔ ریاستی پولیس نے امرناتھ یاتریوں پر ہوئے ہلاکت خیز حملے کی جانچ کے لئے جولائی کے دوسرے ہفتے میں ایک چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔ چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ڈپٹی انسپکٹر جنرل جنوبی کشمیر ایس پی پانی کررہے ہیں۔

ٹیم کے دیگر اراکین میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اننت ناگ الطاف احمد خان، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی رینک کا ایک افسر اور دیگر تین پولیس افسران شامل ہیں۔ خیال رہے کہ ضلع اننت ناگ کے بٹنگو میں 10 جولائی کی رات جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک یاتری بس کے کراس فائرنگ کی زد میں آنے سے 7 امرناتھ یاتری ہلاک جبکہ کم از کم ڈیڑھ درجن دیگر زخمی ہوگئے۔ کراس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 6 یاتریوں کا تعلق گجرات سے تھا۔ کراس فائرنگ کی زد میں آنے والی بس امرناتھ یاترا کے بال تل بیس کیمپ سے جموں کی طرف جارہی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز