کشمیر میں سالانہ امرناتھ یاترا کا باقاعدہ آغاز، یاتریوں کے قافلے پوتر گپھا کی طرف روانہ

Jun 29, 2017 10:40 AM IST | Updated on: Jun 29, 2017 10:40 AM IST

سری نگر۔  وادی کشمیر میں امرناتھ یاترا کے بال تل اور ننون پہلگام بیس کیمپوں سے جمعرات کی صبح ’بم بم بولے‘ اور’ہر ہر مہادیو‘ کے نعروں اور سخت ترین حفاظتی حصار میں یاتریوں کے پہلا قافلہ جنوبی کشمیر میں سطح سمندر سے 13 ہزار 500 فٹ بلندی پر واقع امرناتھ گپھا کی طرف روانہ ہوا، جس کے ساتھ ہی وادی میں چالیس (40) دنوں پر محیط سالانہ امرناتھ یاترا کا باقاعدہ طور پر آغاز ہوگیا ہے۔ سالانہ امرناتھ یاترا 7اگست کو رکھشا بندھن کے تہوار کے موقع پر خصوصی پوجا کے ساتھ اختتام پزیر ہوگا۔ ایک یاترا افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ انتہائی خوشگوار موسم کے بیچ وسطی ضلع گاندربل میں واقع بال تل بیس کیمپ اور جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں واقع ننون پہلگام بیس کیمپ سے ہزاروں یاتریوں پر مشتمل قافلے پوتر امرناتھ گھپا کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے بتایا ’گذشتہ چند دنوں کے دوران سینکڑوں کی تعداد میں یاتری پہلے ہی بال تل اور ننون پہلگام بیس کیمپوں تک پہنچ چکے تھے۔ اس کے علاوہ بدھ کو جموں سے قافلے کی صورت میں 2200 سے زائد یاتری بیس کیمپوں تک پہنچے‘۔ یاترا افسر نے بتایا کہ جو یاتری پوتر گھپا میں شیولنگم کے درشن کرنے کے لئے بال تل بیس کیمپ سے روانہ ہوئے، کو 14 کلو میٹر کا پیدل پہاڑی سفر طے کرنا پڑے گا۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ اس راستے پر پہلا ہالٹنگ اسٹیشن (جہاں یاتری رکتے ہیں) دو کلو میٹر بعد آتا ہے ، جو دو میل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے بعد یاتری براری مرگ اور سنگم ہالٹنگ اسٹیشنوں عبور کرنے کے بعد بالآخر پوتر گھپا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ نوجوان یاتری بال تل کے راستے سے ہی شیولنگم کے درشن کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہاں سے یاتری ایک ہی دن میں یاترا مکمل کرلیتے ہیں۔ بال تل پوتر گھپا تک پہنچنے کا مختصر راستہ ہے۔

یاترا افسر نے بتایا کہ ننون پہلگام کا راستہ اختیار کرنے والے بیشتر یاتری آج رات چندن واڑی ہالٹنگ اسٹیشن پر گذاریں گے، اور پھر جمعہ کی صبح پسو ٹاپ کی جانب روانہ ہوں گے۔ پہلگام امرناتھ یاترا کا روایتی راستہ ہے، جو قریب 45 کلو میٹر طویل ہے۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے امسال یاتریوں کو تحفظ اور سلامتی کا احساس دلانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا ہے اور کشمیر شاہراہ پر یاتریوں کے قافلوں کی مصنوعی سیاروں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کا باضابطہ سلسلہ شروع کردیا ہے۔ یہ اقدام ظاہری طور پر وادی میں گذشتہ چند مہینوں کے دوران جنگجویانہ سرگرمیوں میں آنے والی تیزی کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

کشمیر میں سالانہ امرناتھ یاترا کا باقاعدہ آغاز، یاتریوں کے قافلے پوتر گپھا کی طرف روانہ

امرناتھ یاترا: فائل فوٹو

مبینہ خطرے کے پیش نظر تمام رجسٹرڈ یاتریوں کا انشورنس کور ایک لاکھ روپے سے بڑھاکر 3 لاکھ روپے کردیا گیا ہے۔ امرناتھ یاترا کے پرامن اور خوشگوار ماحول میں انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے یاترا روٹوں اور شاہراہ پر 30 ہزار فوجیوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مشکوک نقل وحرکت پر نگاہ رکھنے کے لئے شاہراہ کے کچھ مشہور اور مخصوص مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ یاتریوں کو جموں وکشمیر کے داخلی پوائنٹ لکھن پور سے لیکر امرناتھ گھپا اور واپسی پر اسی طرح لکھن پور تک معقول سیکورٹی کور فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گذشتہ برس کے مقابلے میں سیکورٹی فورس اہلکاروں کی تعیناتی میں اب کی بار تین گنا اضافہ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ’دونوں یاترا روٹوں (ننون پہل گام اور بال تل)کو پہلے ہی سیکورٹی فورسز کے سپرد کردیا گیا ہے۔ کسی بھی تخریبی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے تین دائروں والی سیکورٹی کا بندوبست کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ بیس کیمپ جموں سے لیکر امرناتھ گھپا تک پیرا ملٹری فورسز بشمول سی آر پی ایف اور سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کی 200 اضافی کمپنیاں تعینات کردی گئی ہیں۔ ہر کمپنی کم از کم ایک سو اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ سی آر پی ایف اور ایس ایس بی کی نئی کمپنیوں کی تعیناتی وادی میں پہلے سے موجود پیرا ملٹری اور ریاستی پولیس کے اضافی ہے۔

سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’اگرچہ امرناتھ یاترا کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے تاہم اس کے باوجودیاترا کے احسن انعقاد کے لئے وادی خاص طور پر یاترا روٹوں پر تین دائروں والی سیکورٹی کا بندوبست کیا گیا ہے۔ وادی بالخصوص جنوبی کشمیر میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں اضافے کے پیش نظر سیکورٹی فورسز کوئی چانس نہیں لینا چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے بتایا ’فوج نے پہلے ہی دونوں یاترا روٹوں (رویتی پہل گام اور مختصر بال تل راستوں) کے پہاڑی علاقوں میں کسی بھی تخریبی کاروائی کو ناکام بنانے کے لئے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اونچے پہاڑی علاقوں میں فوج جبکہ جموں بیس کیمپ سے لیکر پہلگام اور بال تل بیس کیمپوں بالخصوص سری نگر جموں قومی شاہراہ پر یاتریوں کی حفاظت کا کام سی آر پی ایف اور ایس ایس بی کے اہلکار انجام دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ننون پہل گام اور بال تل بیس کیمپوں سے پوتر امرناتھ گھپتا تک بھی سی آر پی ایف اور ایس ایس بی کے ہی اہلکار تعینات رہیں گے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تاحال قریب اڑھائی لاکھ افراد نے سالانہ امرناتھ یاترا میں حصہ لینے کے لئے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔ شاہراہ کے علاوہ انتظامیہ نے لکھن پور سے پوتر امرناتھ گھپا تک قائم کئے جانے والے کیمونٹی کچنزمیں مشکوک نقل وحرکت پر نگاہ رکھنے کے لئے سی سی ٹی کیمرے نصب کرائے ہیں۔

اس دوران سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جموں بیس کیمپ یاتری نواسن میں بنیادی سہولیات کے علاوہ سیکورٹی کے بھی کڑے انتظامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے یاتری نواسن کے اندر اور باہر سی آر پی ایف اہلکاروں کی بھاری جمعیت تعینات کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ’بیس کیمپ میں یاتریوں کے لئے پرائیویٹ کیمونٹی کچن (لنگر)قائم کئے گئے ہیں جبکہ ریاستی محکمہ سیاحت کی جانب سے ایک فوڈ کورٹ قائم کیا گیا ہے جہاں یاتریوں کو مختلف کھانے کی چیزیں رعایتی داموں پر فراہم کی جارہی ہیں‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز