بین ریاستی شادیاں ہند ۔ کشمیروفاق کو عطا کرسکتی ہیں نیا مفہوم : امبیڈکر کانگریس بانی صدر کاظم علی خان

Oct 22, 2017 12:13 PM IST | Updated on: Oct 22, 2017 12:14 PM IST

نئی دہلی : اس تمہید کے ساتھ کہ سیاست معاشرت سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ اس سے مکمل طور پر مربوط ہے، امبیڈکر نیشنل کانگریس نے جموں کشمیر کے مسئلے کو معاشرتی غلبے والی سیاسی سوچ کے ذریعہ حل کرنے پر زور دیا ہے تاکہ ہندستان کی اس سرحدی کی ریاست کی پہچان کسی قانونی آرٹیکل کی محتاج نہ رہے ۔ ملک میں دلتوں اور بلا تفریق پسماندہ طبقات کے حقوق کے لئے سرگرم امبیڈکر کانگریس کے بانی صدر محمد کاظم علی خان نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ جموں کشمیر میں علاحدگی پسندانہ رُجحان اور اس کے خلاف حکومت کی انتظامی کاروائیوں سے متاثر اس ریاست کا باشعور حلقہ جموں کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں کے ساتھ ’’نسبتی انسانی رشتوں‘‘ کی بنیاد پر اس طرح مربوط کرے کہ ہندستان کشمیر اور کشمیر ہندستان سے بالکل اسی طرح ہم آہنگ ہو جائے جس طرح شمالی، جنوبی، مغربی اور مشرقی ہندستانی ریاستیں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔

مسٹر کاظمی نے کہا کہ نسبتی رشتے سے ان کی مراد کشمیری اور غیر کشمیری لڑکے اور لڑکیوں کی بین ریاستی شادیاں ہیں۔ یہ شادیاں ملک اور ریاست کے غیر متماثل وفاق کو ایک نیا مفہوم عطا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خال خال ایسی شادیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا کے اس اولین رشتے کے ذریعہ اب جموں کشمیر کو ہندستان کے اٹوٹ انگ کی وہ پہچان دی جائے جو کسی خاص قانونی آرٹیکل کی محتاج نہ ہو۔

بین ریاستی شادیاں ہند ۔ کشمیروفاق کو عطا کرسکتی ہیں نیا مفہوم : امبیڈکر کانگریس بانی صدر کاظم علی خان

انہوں نے ایک خصوصی ملاقات میں یہاں کہا کہ اس طرح قومی اور ریاستی سطح کے معاشرتی ذمہ داران تعلق پسندانہ سیاسی بیداری لانے میں کیٹالسٹ (عمل انگیز) کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ بیداری ایک سے زیادہ نسلوں کے حق میں رائیگاں جانے والی اُن دہائیوں کے تسلسل کو روک سکتی ہے جو انسانی بہبود کے محاذ پر ریاستی اور قومی دونوں سطحوں پر امکانات سے استفادہ کرنے کے بجائے اندیشوں کے کاروبا ر میں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی شدت کا تقاضہ ہے کہ اس سمت میں پہل اُن متاثر خاندانوں کی طرف سے ہو جن کی بیٹیاں اور بیٹے بظاہر بے پناہی سے دوچار ہیں اور ہندستان کے ایک سے زیادہ علاقوں میں امداد کے لئے بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں امبیڈکر رہنما نے حیدرآباد میں موجود بعض کشمیری لڑکیوں کا حوالہ دیا جنہیں مبینہ طور ہر بے پناہی کا سامنا ہے اور وہ مدد کے لئے لوگوں کے سامنے دست طلب پھیلانے پر مجبور ہیں۔ گداگری پر حالات کے ہاتھوں مجبور ان لڑکیوں کے انسانی اسمگلنگ کرنے والوں کے چنگل میں پھنسنے اور ان کا نشانہ بننے کا بھی خدشہ لگارہتا ہے۔ قبل ازیں ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ خود کو کشمیر میں غیر محفوظ اور پیسے مانگنے پر مجبور بتانے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں یہ الزام لگاتے ہوئے ہاتھ پھیلاتی ہیں کہ ان کے تعلیمی اداروں کو جلادیا گیا ہے اسی لئے وہ کشمیرکے خراب حالات کے سبب بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔

مسٹر کاظمی نے کہا کہ اس طرح یہ لوگ جانے انجانے میں کشمیراورکشمیریوں کو بدنام بھی کررہے ہیں جس کا سنجیدہ حلقوں کو نوٹس لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیریوں کو دہائیوں پر محیط شورش کے دوران بے انتہا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ باوجودیکہ اس طرح بیرون ریاست لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ایک سے زیادہ سیاحتی اور دوسرے تجارتی شعبوں سے جڑے کشمیریوں کا وطیرہ نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کشمیر کے نام کو خراب کرنے والے ایسے گداگر کلکتہ،پونے ،دہلی اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی سرگرم ہیں۔

امبیڈکر رہنما نے کہا کہ وہ ایسے ایک سے زیادہ کشمیریوں کو جو بنیادی طور پر محنت کش اور ایماندار ہوتے ہیں، انفرادی اور اجتماعی طور پر بین ریاستی شادیوں کے لئے امبیڈکر کانگریس کی طرف سے اس اُمید کے ساتھ امدادی اشتراک کی پیش کش کر چکے ہیں کہ اس طرح ایک نئے حوالے سے ہی سہی کشمیرکے حالات بدلیں اور بیرون کشمیر ملک کے دیگر علاقوں میں تعلیم اور تجارت کے لئے جانے والے حقیقی کشمیریوں کو پریشان کن صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز