یوپی انتخابات سے پہلے یہاں پڑھیں بی جے پی صدر امت شاہ کا سب سے بڑا انٹرویو

Jan 29, 2017 09:39 PM IST | Updated on: Jan 30, 2017 12:03 AM IST

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اتر پردیش انتخابات کے لئے منشور جاری کر دیا ہے ۔ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کا دعوی ہے کہ ان کی پارٹی کا منشور سب سے الگ ہے، اور پارٹی ریاست میں ترقی کے لئے کوشاں ہے ۔ نیٹ ورک 18 کے گروپ ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی نے بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ  سے یوپی میں حکومت بنانے اور ریاست کی ترقی کے دعووں کو لے کر براہ راست سوال و جواب کئے ہیں ۔

سوال : آپ کے منشور میں ایسا کیا ہے جو دوسرے میں نہیں ہے؟

یوپی انتخابات سے پہلے یہاں پڑھیں بی جے پی صدر امت شاہ کا سب سے بڑا انٹرویو

جواب: منشور کے دیباچے میں ہم نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ گزشتہ 15 سال میں اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی کی حکومتیں بننے سے یہ ریاست کافی پیچھے رہ گئی ہے ۔ 15 سال میں دیگر ریاستوں نے جنتی ترقی کی ہے ، اس کے مقابلہ میں یوپی میں زیادہ امکانات ہونےکے باوجود ترقی نہیں ہو پائی ہے ۔ گورننس ، لاء اینڈ آرڈر، انتظایمیہ اور بالخصوص زراعت و صنعتی شعبے میں ریاست کافی پچھڑ گئی ہے۔  ہم نے ایسا پلیٹ فارم تیار کرنے کی کوشش کی ہے، جس کی بنیاد پر بلند عمارت بنائی جا سکے ۔ ہماری کوشش ہے کہ اگر ہماری حکومت بنتی ہے ، تو ہم 5 سال میں یوپی میں اتنی ترقی کریں گے کہ یہ باقی دیگر ریاستوں کے ساتھ کھڑی ہو سکے ۔

سوال: آپ نے منشور میں کسان قرض معافی ، آسان قرض ، صحت کی حفاظت اور تعلیم کی بات کی ہے۔ آپ نے لیپ ٹاپ بانٹنے اور لاء اینڈ آرڈر پر خصوصی زور دیا ہے ۔ اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب : ہم نے قرض معافی اور آسان قرض کے علاوہ کسان کے دھان کی خرید  کے انتظامات کا بھی وعدہ کیا ہے ۔ کسانوں کو پھل ، سبزیوں اور اناج کی مناسب قیمت دلانے کے لئے تمام منڈیوں کا کمپیوٹرائزیشن کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ ہم نے ہر کسان کو تین سال میں ایک ہیلتھ سوائل کارڈ دینے کی بھی بات کی ہے، جس کے ذریعہ کسان یہ جان پائیں گے کہ ان کے کھیت کو کہ کتنے کھاد اور پانی کی ضرورت ہے ۔ وہ کیا پیدا کریں ، تاکہ ان کو زیادہ منافع حاصل ہو ، ان سارے انتظامات سے کسان اپنی پیداوار بڑھا پائیں گے اور اتر پردیش زرعی ترقی کی شرح میں آگے بڑھ پائے گا ۔ یوپی کے کسان گڑھے میں ہیں ، انہیں باہر نکالنے کے لئے صفر شرح سود پر لون اور قرض معافی کی بات ہم نے منشور میں کی ہے ۔

سوال : آپ نے رام مندر، کیرانہ اور گئو کشی پر روک کی بات کی ہے ۔ ساتھ ہی آپ نے جن جگہوں پر ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنے کا وعدہ کیا ہے ، وہ ہندو مذہبی مقامات ہی ہیں ، تو کیا مانا جائے کہ آپ ایک مرتبہ پھر ہندتوا کے ایجنڈے پر لوٹ آئے ہیں؟

جواب : مذبح پر روک کی بات کو اس نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ آپ مشرقی اور مغربی اتر پردیش ، روہیل کھنڈ یا بندیل کھنڈ کہیں بھی جائیں ، وہاں آپ دیکھیں گے کہ مذبح کی وجہ سے دودھ دینے والے سبھی جانور ختم ہو گئے ہیں ۔ کبھی بھی قحط پڑتا ہے یا خشک سالی آتی ہے ، تو غریب کسان مشکل میں پڑ جاتے ہیں ۔ کسان دن بہ دن غریب ہوتے جا رہے ہیں ، اگر ان کے پاس دودھ دینے والے دو تین جانور ہوں گے ، تو وہ اپنی روزی روٹی آسانی سے چلا پائیں گے ۔

اتر پردیش میں دودھ کی پیداوار کے بے پناہ امکانات ہیں ، میں ایسے پردیش سے آتا ہوں ، جہاں یوپی کے مقابلہ  میں بارش کم ہوتی ہے ، ساتھ ہی پانی کی بھی کمی ہوتی ہے ، اس کے باوجود وہاں ڈیریوں کے ذریعے دودھ کی پیداوار کے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں ، ایسے میں ہم چاہتے ہیں کہ جانوروں کو بچایا جائے ۔

فی الحال عالم یہ ہے کہ جانوروں کو غیر قانونی طریقہ سے اٹھا لیا جاتا ہے اور وہ مذبح میں کاٹ دیے جاتے ہیں ۔  اس کے بعد کسانوں کی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوتی ہے ۔ ہماری کوشش سے جو جانور بچیں گے ، ان سے کسانوں کو فائدہ پہنچے گا ۔ اس کے لئے ہم ہر چار ضلع پر ایک ڈیری بنانے کا بندوبست کریں گے ، جہاں کسانوں کو دودھ کی اچھی قیمت مل پائے گی ۔ اس ویلیو ایڈیشن سے کسان اپنی غربت کو دور کر پائیں گے ۔

سوال : انتخابات میں آپ بی جے پی کو کتنی سیٹ دیتے ہیں؟

جواب : فی الحال پورے اترپردیش کا اندازہ لگانا جلدبازی ہوگی ۔ تاہم میں اتنا ضرور کہوں گا کہ پہلے اور دوسرے مرحلے کے انتخابات میں کل 135 نشستوں میں سے بی جے پی 90 نشستیں جیتے گی ۔

سوال: آپ کی اصل لڑٓائی کس سے ہے ، سماجوادی پارٹی کانگریس اتحاد سے یا مایاوتی سے؟

جواب: ایس پی کانگریس اتحاد سے ۔

سوال: کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ سماج وادی پارٹی کانگریس اتحاد کو مسلم ، یادو اور کچھ اونچی ذاتوں کی حمایت ملنے سے آپ کو سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا؟

جواب: کاغذ پر اس قسم کی گنتی کرنا بہت آسان ہے ۔ جب میں لاء اینڈ آرڈر کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب یوپی میں ہر کوئی پریشان ہے ، خواہ وہ یادو ہو یا کہ کسی اور ذات کا ۔ غریبوں پر تشدد زیادہ ہوتا ہے ، یہ حقیقت ہے ۔ پسماندہ اور انتہائی پسماندہ زیادہ پریشان ہیں ، شہروں میں زیادہ سے زیادہ پریشانی ہے ، مگر نقل مکانی سبھی کرتے ہیں ۔ قانون و انتظام نہیں ہونے سے سبھی کو تکلیف ہوتی ہے ۔

بلند شہر ہائی وے پر اگر ماں بیٹی کی آبروریزی ہوتی ہے ، تو یہ سب کی پریشانی ہے ۔ متھرا کے بيچوں بیچ رام وركش یادو تین سال سے سرکاری زمین پر غیر قانونی قبضہ کئے ہوئے تھا ، جب پولیس جاتی ہے ، تو سامنے سے گولی چلا کر جوانوں کو مار دیا جاتا ہے ، یہ صورت حال کسی بھی یوپی والوں کو پسند نہیں ہے ۔ میرا خیال ہے کہ اکثریت انہی مسائل پر ملنے والی ہے ۔ اگر اکھلیش سمجھتے ہیں کہ وہ فیملی ڈرامہ کر کے یا اتحاد کرکے ان مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹا دیں گے ، تو جان لیجئے ایسا نہیں ہونے والا ہے ۔ قانون ، مغربی یوپی سے نقل مکانی ، غیر قانونی طریقہ سے جانوروں کو مارنا، عورتوں کی حفاظت اور غیر قانونی طریقے سے زمین پرقبضہ آج بھی مدعے ہیں ۔ اکھلیش خواہ جو کر لیں یہ مدعے ختم نہیں ہوں گے ۔

سوال: گنا کسانوں کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

جواب: اس ملک میں طویل عرصے سے گنا کسانوں کے مسئلہ کو نہیں اٹھایا گیا ۔ نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد ان کے مفادات کے لئے کام شروع ہوا ہے ۔ سب سے پہلے ایتھونال کی کھپت بڑھا دی ، جس کی وجہ سے انہیں گنے کی قیمت ٹھیک ملی ۔ گنا کی درآمد بند کر دی ، جس کی وجہ سے انہیں اس کی اچھی قیمت ملنے لگی ۔ برآمد پر سبسڈی دیے جانے سے کسانوں کو فائدہ ہوا ۔ ہم نے گنا کسانوں کا کافی بقایا ادا کیا ۔ ہم نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے کہ 120 دنوں کے اندر اندر یوپی کے گنا کسانوں کو چھ ہزار کروڑ روپے کا بقایا ادا کر دیا جائے گا ۔ ساتھ ہی ہم ایسا نظام بنانے جا رہے ہیں کہ جس دن کسان اپنے گنے کو لے کر مل میں جائے گا ، اس کو 14 دن کے بعد کی تاریخ کا چیک اسی وقت مل جائے گا ۔

سوال: آپ اترپردیش میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے کیا کریں گے؟

جواب: اتر پردیش میں ایسٹ ، ویسٹ ، نارتھ اور ساؤتھ کوریڈور کو پورا کیا جائے گا ۔ ہر گاؤں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر سے بس سروس سے جوڑنے کا وعدہ کیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہم نے صحت کے نظام کو بہتر بنانے کا بھی وعدہ کیا ہے ۔ 108 نمبر پر کال کرنے پر آج بھی ڈیڑھ گھنٹے تک گاؤں میں ایمبولینس نہیں پہنچتی ہے ، ہم اسے کم کرکے 15 منٹ تک لائیں گے ۔ ہم 25 نئے میڈیکل کالج کھولیں گے اور چھ ایمس جیسے اسپتال کھول کر اسپتالوں کا جال بچھائیں گے .

سوال: اترپردیش کے اقتصادی نظام کو بہتر بنانے کے لئے کیا کریں گے؟

جواب: اگر رابرٹس گنج اور بندیل کھنڈ کے كھدانوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والی چوری اور نوئیڈا میں ٹیکس چوری پر روک لگا دی  جائے ، تو اتر پردیش کا بجٹ دوگنا ہو جائے گا ۔ یہ تجربہ ہم نے دوسری ریاستوں میں بھی کیا ہے ۔

سوال : کیا ایس پی کا فیملی ڈرامہ اسٹیج فیملی ڈراما تھا؟

جواب: یہ کون سا ڈرامہ تھا یہ ان پر ہی چھوڑ دیجئے ۔ اگر کوئی سوچتا ہے کہ وہ فیملی ڈرامہ کی وجہ سے سارے الزامات سے بچ جائیں گے ، تو یہ ان کی غلط فہمی ہے ۔ ووٹنگ کے دن عوام پورے پانچ سال کے مظالم کو یاد کرکے ووٹ ڈالیں گے ۔

سوال: کہا جا رہا ہے کہ آنے والے انتخابات وزیر اعظم مودی کی نوٹ بندی پر ایک رائے شماری ہے ، کیا آپ اس بات سے متفق ہیں؟

جواب: یہ کہنا ٹھیک نہیں ہوگا کہ رائے شماری نوٹ بندی پر ہو جائے گی ، کیونکہ یوپی میں حکومت کی مخالفت میں بہت سے مسائل ہیں ۔ کان کنی مافیا بے خوف ہوکر بدعنوانی کئے جا رہے ہیں ۔ سڑک کی تعمیر میں نیشنل ہائی وے مرکزی حکومت فی کلومیٹر 18 کروڑ روپے خرچ کرتی ہے ، وہیں یوپی میں 31 کروڑ کا ٹینڈر نکالا جاتا ہے ۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ یہ 13 کروڑ روپے کہاں جاتے ہیں ۔ چار دھام (اتراکھنڈ) سے زیادہ خرچ پر اگر آپ یوپی میں کنکریٹ سڑک بناتے ہیں ، تو یہ پیسہ کہاں جاتا ہے ۔ اس کے بعد بھی اگر مخالفین نوٹ بندی پر رائے شماری چاہتے ہیں ، تو بی جے پی تیار ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ یوپی کے عوام نوٹ بندی اور بی جے پی کے ساتھ ہیں اور وہ کمل کے نشان پر ہی مہر لگائیں گے ۔ (سوال تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ نوٹ بندی سے یوپی انتخابات میں آپ کو فائدہ ہو گا ؟ جواب- ضرور ہوگا )۔

سوال : کیا آپ کو لگتا ہے کہ نوٹ بندی سے کالے دھن پر روک لگانے میں کامیابی ملی ہے؟

جواب: اگر کوئی اتنے بڑے قدم کا تجزیہ تین ماہ میں کرنا چاہتا ہے ، تو میں اسے جلدبازی مانتا ہوں ۔ یہ بہت بڑی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے ۔ ہماری حکومت نے جس دن حلف لیا تھا ، اسی دن سے کالے دھن کے خلاف ہماری لڑائی شروع ہو گئی تھی ، ہم نے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں ہی ایس آئی ٹی کی اس رپورٹ کو نافذ کروایا ، جسے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی یو پی اے حکومت ڈیڑھ سال سے التوا میں ڈالے ہوئی تھی ۔ اس کے بعد سے نوٹ بندی تک ہماری حکومت کالے دھن کے خلاف 29 سے زیادہ قدم اٹھا چکی ہے ۔ اس کے ذریعے ہم نے ملک اور بیرون ملک دونوں جگہوں کے کالے دھن پر سخت حملہ کیا ہے ۔ مگر اگر کوئی پوچھتا ہے کہ نوٹ بندی سے تین ماہ میں کالا دھن ختم ہو گیا ہے ، تو میں اس سے کہوں گا کہ اس کو معاشیات کا مطالعہ کرنا چاہئے.

سوال: نوٹ بندی کے بعد کافی پیسہ سسٹم میں آ گیا ہے ، کہا جا رہا ہے کہ سرمایہ دار اس مرتبہ بھی دھول جھونك كر آگے نکل گئے ، تو کیا آنے والے وقت میں آپ ان پر چھاپہ ماری کرواکر یا دیگر طریقوں سے سخت کارروائی کریں گے؟

جواب: دیکھیئے ، یہ غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے کہ بینک میں جو پیسہ آیا ہے ، وہ سفید ہو گیا ہے ۔ ڈھائی لاکھ سے زیادہ جس نے بھی پرانے نوٹ بینکوں میں جمع کرائے ہیں ، ان کی ایک فہرست بنی ہے ۔ ان پر بہت ساری ایجنسیاں کام کر رہی ہیں ۔ حکومت سخت قانون لے کر بھی آئی ہے ۔ ساتھ ہی کالے دھن والوں کو ایک موقع اور دینے کا قانون لے کر بھی آئی ہے ۔

میں اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ کسی کا بھی کالا دھن بینک میں ڈالنے سے سفید نہیں ہو گا ۔ یہ ضرور ہے کہ جو پیسہ نظام میں آیا ہے ، اس کو غریبوں کی بہبود میں خرج کیا جائے گا ۔ یہ دو وقت کی روٹی نہیں حاصل کرپانے والوں پر، جن کے گھر نہیں ہیں ، جن کے گھر میں روشنی نہیں ہے ، جس کے گھر میں صاف شفاف پینے کا پانی نہیں ہے ، ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا ۔ اب تک یہ پیسہ لیڈروں اور سرمایہ دار وں کے تہہ خانوں میں بند تھا ، آج کم سے کم بینک میں آ گیا ۔ (سوال تو آپ اسے غریبوں تک پہنچانے کی کوشش کریں گے؟ جواب : اس سلسلہ میں اسکیمیں بھی بنی ہیں اور کابینہ اس کے لئے تجویز بھی منظور کر رہی ہے.)۔

سوال: مودی حکومت کا ایک اور بڑا قدم تھا ، پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک ۔ کیا ہندوستان کا رویہ پاکستان کے تئیں سخت ہوگا اور آنے والے وقت میں بھی اسی طریقہ سے منہ توڑ جواب دیا جائے گا؟

جواب: ہندوستان کا رویہ پاكستان کے تئیں کیسا رہے گا ، یہ پاکستان پر منحصر رہے گا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب سے اچھے تعلقات رہیں ۔ پڑوسیوں کے ساتھ امن ہماری ترجیح ہے ، لیکن اگر کوئی ہمارے جذبات کو کمزوری سمجھے گا ، تو یہ بھول ہوگی ۔ یہ بی جے پی کی حکومت ہے ، اس حکومت کے وزیر اعظم نریندر مودی ہیں ،  سرحدوں کی حفاظت اور جوانوں کی جان کے ساتھ کھلواڑ کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ یہ سب کو سمجھنا پڑے گا ۔ ہم نے جو ایک قدم اٹھایا ہے ، یہ یقینا سیاسی قوت ارادی اور فوج کی بہادری کی مشترکہ علامت ہے ۔ اس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہندوستان کو دیکھنے کا نظریہ بدلا ہے ، میں مانتا ہوں کہ آنے والے وقت میں اس کا فائدہ ہی ہوگا ۔ (سوال آنے والے انتخابات میں اس کا اثر نظر آئے گا ، کیا اس مسئلے پر عوام آپ کے ساتھ ہیں ؟ جواب : کچھ لیڈروں کو چھوڑ کر ملک بھر کے عوام ہمارے ساتھ ہیں ۔ آپ نے راہل جی کا بیان پڑھا اور سنا ہوگا کہ جوانوں کی خون پر دلالی بند ہونی چاہئے ، اس طرح کا بیان دے کر کیا کہنا چاہتے ہیں ، میری تو آج بھی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے)۔

سوال: مرکز میں آج  واضح اکثریت کی حکومت ہے ، اگر آپ اترپردیش میں بھی حکومت بنائیں گے ، تو رام مندر کے تئیں آپ کا کیا رویہ رہے گا ؟

جواب: رام مندر کے بارے میں ہمارا واضح موقف ہے کہ آئینی طریقہ سے رام مندر کی تعمیر کا راستہ تلاش کیا جائے گا ۔ مندر کی تعمیر یا تو باہمی بات چیت سے ہو سکتی ہے ، یا کورٹ کے حکم پر ۔ کورٹ میں کیس زیر التوا ہے اور چند دنوں پہلے اس کی تاریخ تھی ، جب بھی اگلی تاریخ آئے گی ، حکومت اپنا موقف رکھے گی ۔  باقی پارٹیاں بھی اپنا موقف رکھیں گی ۔ (کیا آپ اور آپ کی حکومت رام مندر بنانے کے لئے کوشاں ہے؟ جواب : ہماری حکومت آئین کا احترام کرتے ہوئے مندر کی تعمیر کے لئے پابند عہد ہے۔)۔

سوال: 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں یوپی میں آپ نے 73 نشستیں جیتی تھیں ، تو لوگ اس کی دو وجہیں مان رہے تھے ، ایک تو مودی جی کی لہر دوسری آپ کی حکمت عملی ، تو کیا لگتا ہے کہ اسمبلی انتخابات میں بھی یہ دونوں کام کرے گا؟

جواب: 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران پورے ملک کی خواہش تھی کہ کوئی مضبوط لیڈر اس ملک کی قیادت کرے ، بی جے پی نے مناسب فیصلہ کیا تھا کہ نریندر مودی کو انتخابات سے پہلے ہی وزیر اعظم کے عہدہ کا امیدوار اعلان کر دیا تھا ۔ ملک بھر میں جس طرح سے نریندر مودی کی لہر تھی ، وہ یوپی میں بھی تھی،  میں پارٹی کا قومی صدر ہونے کے ناطے آج بھی یوپی میں بی جے پی کے کروڑوں کارکنوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے دن رات محنت کر کے اس لہر کو ووٹ اور سونامی میں تبدیل کرایا اور 80 میں سے 73 سیٹوں پر جیت دلائی ۔

میں یہ بھی کہوں گا کہ یوپی کے عوام کے اسی فیصلے کے پیش نظر ہم مرکز میں واضح اکثریت کی حکومت میں ہیں اور ملک کو آگے لے جا رہے ہیں ۔ اس مرتبہ بھی پورے اترپردیش میں جس طرح کی بدنظمی ہے، ایس پی - بی ایس پی، بی ایس پی - ایس پی کا جو دور چال رہا ہے، عوام بے حال ہیں ، 15 سال سے کہیں بھی ترقی نہیں ہوئی ، 15 سال سے بدعنوانی کا دور ہے ، 15 سال سے قانون کی حالت خستہ ہے، 15 سال سے نقل مکانی ہورہی ہے ، بچے کام کے لئے ممبئی ، گڑگاؤں ، بنگلور، احمد آباد  اور دہلی میں آتے ہیں اور ماں باپ اور بیوی گھر پر ہیں ۔ وہیں بیٹا یہاں پر کام کی تلاش میں ہے ۔ اتر پردیش کے پاس سب کچھ ہے، 50 فٹ نیچے پانی ہے، ماں گنگا اور جمنا کا آشیرواد ہے ، پانی کی کوئی قلت نہیں ہے، مگر محنت کش اور تعلیم یافتہ نوجوان بدانتظامیوں کا شکار ہونے کی وجہ سے یوپی کی ترقی نہیں کر پا رہے ہیں ۔

سوال: وزیر اعظم کی شہرت کے بعد بھی آپ بہار اور دہلی میں انتخابات ہارے ۔ وہاں کی کچھ غلطیاں ، جس سے آپ سیکھے ہوں ، جو یہاں نہیں کریں گے؟

جواب: دیکھئے، دونوں شکستوں کے لئے ہماری پارٹی نے ایک کمیٹی بنائی تھی ، جس کی رپورٹ بھی آئی ہے ۔ لیکن اس کی عوامی پلیٹ فارم بحث کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔ میں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ ایک خاص سیاسی حالات دونوں ریاستوں میں تھے ۔ اس کے بعد ہم آسام کے انتخابات بھی جیتے ہیں ۔ ملک بھر میں جتنے مقامی بلدیہ کے انتخابات ہوئے ہیں ، سب میں جیتے ہیں ۔ ضمنی انتخابات میں ہم مضبوط بن کر ابھرے، کیرل اور بنگال میں بھی ہم بڑھے ۔ ہر جگہ مودی جی کی قیادت کو تسلیم کیا گیا۔

سوال : بی جے پی کی حکمت عملی اس مرتبہ کچھ لوگوں کو جوڑنے کی رہی ہے ، تو کچھ جماعتوں کو توڑنے کی بھی ۔ اس مرتبہ آپ نے یوپی میں اپوزیشن لیڈر (سوامی پرساد موریہ) کو توڑ کر اپنی پارٹي میں ملا یا، اس کے کیا معنی نکالے جائیں؟

جواب: جوڑنا اور توڑنا دونوں لفظ اس کے لئے ٹھیک نہیں ہے، یہ منتقلی ہے۔ جس طرح سے کنبہ پروری اور ذات پات کی سیاست چل رہی ہے اور بی ایس پی کا لوٹ کھسوٹ کا کاروبار چل رہا ہے، اس سے پریشان ہوکر لوگ بی جے پی کی جانب منتقل ہو رہے ہیں ۔

یوپی کے الیکشن کو آپ اس ریاست سے جوڑ کر نہ دیکھیں ، اگر ملک کی ترقی کی شرح کو ڈبل پوائنٹس میں لے جانا ہے ، تو یوپی کی ترقی کو بھی ہر حال میں ڈبل پوائنٹس میں پہنچانا ہوگا ۔ (بات جاری رکھتے ہوئے ... جہاں جانوروں کو مارا جاتا ہو ، صحت کی خدمات اور انفراسٹرکچر تنزل پذیر ہوں، نوجوانوں کے لئے روزگار نہ ہو، خواتین کو تحفظ نہ ملے ، صرف نسل پرستی ، ووٹ بینک اور منھ بھرائی کی سیاست اور کرپشن کی بنیاد پر اپنا رتبہ برقرار رکھنے کی حکمت عملی چل رہی ہو، اس سے اترپردیش کا بھلا نہیں ہوگا۔)۔

سوال: ابھی آپ نے کنبہ پروری کی بات کی ، مودی جی نے بھی بی جے پی کے سینئر رہنماؤں سے اس مرتبہ اپیل کی تھی کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے لئے ٹکٹ نہ مانگیں ، اس کے بعد بھی آپ لوگوں کو کافی ٹکٹ بانٹنے پڑے؟

جواب: ہم جس کنبہ پروری کی بات کرتے ہیں اس کی تشریح بھی واضح کر دیتا ہوں ۔ ملائم سنگھ یادو کے بعد اکھلیش باقی تمام لیڈروں کو درکنار کر کے وزیر اعلی بنتے ہیں ، یہ کنبہ پروری ہے ۔ فاروق عبداللہ جی کے بعد ان کے بیٹے وزیر اعلی بنتے ہیں ، یہ کنبہ پروری ہے ۔ جواہر لال نہرو، اندرا گاندھی ، راجیو گاندھی ، سونیا گاندھی ، راہل گاندھی یہ کنبہ پروری ہے ۔ کسی لیڈر کا بچہ الیکشن لڑتا ہے ، وہ ایم ایل اے بنے گا ، ایم پی بنے گا ، سالوں تک کام کرے گا، مگر وزیر اعلی نہیں بن سکے گا ، اگر اس میں قابلیت نہیں ہے ۔ یہ صرف بی جے پی میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔

آپ کنبہ پروری کی تشریح اتنی سادہ مت کر دیجئے ۔ ملک میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے ۔ راہل گاندھی کو اگر بیٹا ہوتا ہے یا بیٹی ہوتی ہے ، تو لوگوں میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے کہ اگلا کانگریس صدر کون ہوگا ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ بی جے پی کا اگلا صدر کون ہوگا ؟ یہ فرق ہے بی جے پی اور باقی دیگر کنبہ پرور پارٹیوں کے درمیان ۔  ایک آدمی غریب گھر سے اٹھ کر ملک کا وزیر اعظم بن جاتا ہے، میرے جیسا بوتھ کارکن بی جے پی کا قومی صدر بن جائے ، ایسی پارٹی میں کبھی بھی کنبہ پروری نہیں آ سکتی ۔

سوال: جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، کچھ لیڈر فرقہ وارانہ بیان دینے لگے ہیں، جس سے فرقہ وارانہ تشٹی کرن کی بو آتی ہے۔ مودی جی نے ایسے رہنماؤں کو پہلے بھی کافی خبردار کیا ہے، اس بار آپ کا ان کے ساتھ کیا رویہ رہے گا؟

جواب: آپ اس چیز کو بی جے پی کے ساتھ جوڑ کر مت دیکھئے۔ یوپی کے ساتھ ایک خاص قسم کے حالات ہیں۔ یہاں بہت بڑا غصہ ہے، جس طرح سے ووٹ بینک، اپیزمنٹ کی سیاست ہوئی، اس کے خلاف اگر کوئی کچھ بولتا ہے تو وہ عوام کی آواز اٹھاتا ہے۔ مگر، فرقہ وارانہ پرچار نہیں کرنا چاہئے، فرقہ وارانہ چیزوں کو ایجنڈا نہیں بنانا چاہئے۔ ہم اس بات کو مانتے ہیں، لیکن اگر کوئی ہماری طرف سے ذبیحہ خانے پر اٹھائے گئے اقدام کو فرقہ وارانہ کہتا ہے تو وہ جان لیں کہ یہ کسانوں کی بھلائی کے لئے اٹھایا گیا قدم ہے۔

مغربی یوپی میں جو نقل مکانی ہوتی ہے تو ہم اس کے لئے ٹاسک فورس تشکیل دیتے ہیں، اگر کوئی اسے فرقہ وارانہ کہتا ہے تو اسے جاننا چاہئے کہ یہ اترپردیش کے عوام کی بھلائی کے لئے ہے۔ کوئی بچیوں کو تشدد کا نشانہ بنائے، جس کی وجہ سے وہ اسکول کالج نہیں جا پاتی ہیں۔ اس کے خلاف اگر بی جے پی اینٹی رومیو اسكاڈ بناتی ہے تو فرقہ وارانہ بات نہیں ہے، یہ طالبات کا حق ہے۔ طالبات اپنی تعلیم اپنے گاؤں شہر میں رہ کر پوری کریں یہ ان کا حق ہے۔ اس لیے فرقہ واریت کی تعریف میں ان ساری باتوں کو شامل نہیں کیا جانا چاہئے۔

سوال: مغربی اترپردیش آپ کے لئے کافی اہم ہے، وہاں جو نقل مکانی ہوئی ہے، اس کے لئے آپ کسے ذمہ دار مانتے ہیں؟

جواب: بیشک، ایس پی، بی ایس پی کی تشٹی کرن اور ووٹ بینک کی سیاست کو۔ اگر قانون کا راج ہوتا، آئین کے تحت تھانے کام کرتے، آئین کی رہنمائی کے تحت پولیس کام کرتی تو یہ کبھی نہیں ہوتا۔ جبکہ پولیس کو کہا گیا کہ وہ ذات مذہب کو دیکھ کر رپورٹ درج کرے۔ اسی وجہ سے نقل مکانی کے واقعات ہوئے۔

سوال. آپ حکومت بنائیں گے تو کیا قدم اٹھائیں گے؟

ہم نے پہلے بھی قدم اٹھائے ہیں جب یوپی میں کلیان سنگھ اور راج ناتھ سنگھ کی حکومت تھی تو اس طرح کے واقعات میں کمی آئی تھی۔ ملک بھر میں ہماری 14 سرکاریں ہیں، کہیں نقل مکانی نہیں ہو رہی ہے۔

سوال: بہار انتخابات کے دوران آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ریزرویشن کے خلاف آواز اٹھائی اور اس کا خمیازہ آپ کو بھگتنا پڑا۔ اس بار بھی منموہن ویدیہ جی نے جے پور لٹریچر فیسٹیول میں اسی طرح کی بات کی، ہم آپ سے جاننا چاہتے ہیں کہ ریزرویشن کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: اس وقت بھی موہن جی نے ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی، نہ اس بار منموہن جی نے اس طرح کا کچھ بھی کہا ہے۔ منموہن جی سے مذہبی ریزرویشن پر سوال پوچھا گیا تھا، مگر کسی نے سوال نکال دیا اور جواب دکھا دیا۔ اگلے دن منموہن جی کے جواب کا ویڈیو وائرل ہوا، جس میں سچ سامنے آ چکا ہے۔ ویڈیو میں صاف طور سے کہا گیا ہے کہ سوال سچر کمیٹی کے اندر مذہبی ریزرویشن پر تھا۔ سنگھ بھی واضح کر چکا ہے کہ آج ایسی صورت حال نہیں ہے کہ ریزرویشن کی صورت حال کو تبدیل کیا جا سکے۔ ریزرویشن پر فی الحال کوئی نظر ثانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بی جے پی کی واضح رائے ہے کہ بھارتی آئین کے تحت ملک میں ایس سی، ایس ٹی اور اوبی سی کے لئے جو ریزرویشن کا نظام چل رہا ہے، وہ جاری رہے گا۔

میں ایس پی، کانگریس اور بی ایس پی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جو اقلیتوں کے ریزرویشن کی بات کرتے ہیں، وہ کہاں سے لائیں گے؟ سپریم کورٹ نے 50 فیصد کا ایک کیپ بنا دیا ہے، اس کے بعد آپ ریزرویشن بڑھا نہیں سکتے ہیں۔ کچھ ریاستوں میں 50 فیصد پورا کا پورا تقسیم ہو چکا ہے۔ ایس سی، ایس ٹی اور اوبی سی کے تحت اگر آپ اقلیتوں کو ریزرویشن دینا چاہتے ہیں تو آپ ان لوگوں کا حق کاٹیں گے۔ بی جے پی دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلیوں کے ریزرویشن کی مخالفت نہیں کرتی، جبکہ مذہب کے نام پر ریزرویشن مانگنے والے دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلیوں کے ریزرویشن میں کمی کرنے کی بات کہہ رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس اس بار کے انتخابات میں عوام کو بتا دیں کہ وہ دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلیوں میں سے کس کا ریزرویشن کاٹیں گے۔

ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم مذہبی ریزرویشن کے حق میں نہیں ہیں۔ ریزرویشن کی بنیاد مذہبی نہیں ہو سکتا۔ آئین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ایسے میں موجودہ نظام ہی لاگو رہنا چاہئے۔

سوال: آپ نے کئی ریاستی انتخابات لڑے جہاں آپ کا وزیر اعلی کا کوئی چہرہ نہیں تھا، آسام میں تھا، جس کا آپ کو فائدہ بھی ملا۔ یوپی میں آپ نے کوئی چہرہ کیوں نہیں آگے کیا ہے؟

جواب: یہ بی جے پی کی پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ ہے۔ ساتھ ہی میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ مہاراشٹر، جھارکھنڈ اور ہریانہ انتخابات میں بھی ہم نے وزیر اعلی چہرہ نہیں دیا تھا، پھر بھی ہم جیتے۔ جی ہاں، اتنا ضرور کہوں گا کہ ہمارا جو چہرہ ہو گا وہ ان چہروں (اکھلیش، مایاوتی) سے اچھا ہو گا۔

سوال: وزیر اعظم نے ٹرپل طلاق کی مخالفت کی تھی، آپ کے منشور میں بھی اس کا ذکر ہے، اس پر کیا کہیں گے؟

جواب: ہم بہت وضاحت سے مانتے ہیں، آئین کے تحت اس ملک کی ہر عورت کو اس کا حق ملنا چاہئے۔ اگر سپریم کورٹ اس معاملے میں ریویو کر رہی ہے تو میں مانتا ہوں کہ ملک کی دوسری خواتین کی طرح مسلم خواتین کو بھی آئینی حق ملنا چاہئے۔ ٹرپل طلاق مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

سوال: اتراکھنڈ میں بی جے پی کے جیتنے کا کیا امکان ہے؟

جواب: یقینی طور پر اتراکھنڈ میں بی جے پی اچھے فرق سے حکومت بنانے جا رہی ہے۔

سوال: آپ لوگوں نے اتراکھنڈ میں بھی کانگریس کے کئی بڑے لیڈروں کو اپنے ساتھ ملایا، کیا آپ کو اس کا فائدہ ہوگا؟

جواب: یہ ایک پراسیس ہے، ایک پارٹی ٹوٹ رہی ہے اور اچھے کام کرنے والے لوگ اس سے دوسری پارٹی میں آ رہے ہیں۔ اس پراسیس کو دل۔ بدل کے تحت نہ دیکھا جائے۔ یہ انتخابات کے پہلے ہو رہا ہے، حکومت بنانے کے لئے آیا رام گیا رام نہیں ہو رہا ہے۔ جو آئے ان کو لے کر ہم عوام کے سامنے جائیں گے، عوام اپنا فیصلہ سنائیں گے۔

سوال: کہتے ہیں، گوا میں کانٹے کی ٹکر ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امت شاہ کو منوہر پاریکر کو دوبارہ یہاں بلانا پڑا، کیا آپ اس بات کو مانتے ہیں؟

جواب: نہیں، پارٹی نے اب تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ جی ہاں، یہ ضرور ہے کہ اگر گوا کے عوام چاہتے ہیں تو پارٹی نے دونوں راستے کھلے رکھے ہیں۔ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد فاتح ممبران اسمبلی کی رائے پر پارلیمانی پارٹی اس پر آخری فیصلہ لے گی۔ یہ بھی کہوں گا کہ گوا میں ہماری پوزیشن بہت اچھی ہے، پہلی بار ہم نے پانچ سال کی حکومت دی ہے، پہلے 10 سال میں کانگریس نے 12 وزیر اعلی دیے تھے۔

سوال: پنجاب انتخابات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، چرچا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کی وہاں برتری دکھائی دے رہی ہے؟

جواب: میرے حساب سے پنجاب میں تینوں (اکالی دل + بی جے پی، کانگریس، آپ) پارٹیوں کے درمیان سہ رخی مقابلہ ہے۔ شرومنی اکالی دل اور بی جے پی پرکاش سنگھ بادل جیسے مضبوط اور سینئر لیڈر کے ساتھ میدان میں پورے دم خم سے کھڑی ہے۔

سوال: مہاراشٹر میں شیوسینا آپ سے ناراض ہے، اس بار کارپوریشن اور ضلع پریشد کے انتخابات اکیلے لڑ رہی ہے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ مرکز اور ریاستی حکومت میں اس سے آپ کے رشتوں میں کوئی فرق پڑے گا؟

جواب: یہ ہمارا فیصلہ نہیں ہے، یہ شیوسینا پارٹی کا فیصلہ ہے۔ ہمارا ذہن کھلا ہوا ہے، شیو سینا ہمارا قابل اعتماد ساتھی ہے۔ مرکز اور ریاست کی حکومتوں میں وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ اب ایک دوستانہ میچ ہو رہا ہے، ریاست کے عوام اس کا رزلٹ طے کریں گے۔

سوال: تو آپ کہہ رہے ہیں کہ شیوسینا کے ساتھ چھوٹا موٹا من مٹاو ہے؟

جواب: نہیں، یہ من مٹاو نہیں ہے۔ دونوں جماعتوں کا اپنے بارے میں جو اندرونی اندازہ ہے اس میں فرق ہے۔ دونوں جماعتوں کو اپنی طاقت پر بھروسہ ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس سے ہمارے اتحاد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

سوال: آپ کے لئے اگلا اہم ترین پڑاؤ گجرات اسمبلی انتخابات ہے، آپ کو کیا لگتا ہے وہاں بی جے پی کیسا کرے گی؟

جواب: وہاں، حال میں جو مقامی بلدیاتی انتخابات اور ضمنی انتخابات ہوئے اس میں بی جے پی نے کلین سویپ کیا۔ وہاں بی جے پی کافی اچھی حالت میں ہے، ہم وہاں 1990 کے بعد کبھی الیکشن نہیں ہارے۔ ایک بار پھر ہم وہاں دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائیں گے۔

سوال: ان حالات کو دیکھ کر 2019 کے بارے میں آپ کا کیا اندازہ ہے؟

جواب: حال ہی میں ایک اخبار کا سروے آیا تھا کہ اگر آج انتخابات ہوتے ہیں تو بی جے پی کو 370 نشستیں آئیں گی۔ 2019 تک ملک کو ترقی دے کر، ملک کی سلامتی بڑھا کر، غریبوں کی زندگی کی سطح اٹھاکر ہم اور مضبوط ہوں گے۔ ہم نے غریبوں کی زندگی کی سطح کو تبدیل کرنے کا کام کیا ہے۔ دھوئیں والے گھر میں گیس چولہا پہنچانے، بینک اکاؤنٹ کھولنے، ٹوائلٹ بننے سے خواتین اور غریبوں کو کیسا سکون ہو رہا ہوگا یہ تو وہی جانتے ہوں گے۔

سوال: بڑے ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ نوٹ بندی سے ملک کی معیشت کی رفتار سست ہو جائے گی، اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟

جواب: ابھی تک تو اس کا ایسا اثر ظاہر نہیں ہوا ہے، لیکن مان لیں ایک آدھ کوارٹر میں ایسا ہوتا بھی ہے تو آپ ذرا اندازہ لگائیے، آٹھ لاکھ ہزار کروڑ روپے سسٹم میں آ جانے سے کتنی بڑی تبدیلی آئے گی۔ یہ پیسہ اب تک کالے دھن کے طور پر تہہ خانوں، تجوريوں میں پڑا تھا آج نظام کے اندر ہے، میں مانتا ہوں کہ اس سے بہت بڑا فرق پڑے گا۔

سوال: آپ اکثر انتخابات کے پہلے انتہائی ریلیکس رہتے ہیں، اس کا کوئی خاص راز؟

جواب: ہم انتخابات کو جمہوریت کا ایک فیسٹیول مان کر لڑتے ہیں۔ ہم نظریہ، منشور اور کیڈر کے ساتھ میدان میں جاتے ہیں۔ ہار جیت ہمارے لئے بہت معنی نہیں رکھتی۔ ہم پرفارمنس کی سیاست کرتے ہیں۔ ہم ذات، مذہب کی سیاست نہیں کرتے۔

سوال: امت شاہ کا اگلا مقام کیا ہوگا؟ کیا آپ 2019 کے انتخابات میں مرکز کی سیاست میں آنا چاہتے ہیں، یا حکومت میں آنا چاہتے ہیں، یا گجرات لوٹنا چاہتے ہیں یا پھر کسی ریاست کی سیاست کی باگ ڈور سنبھالنا چاہیں گے؟

جواب: میرا گجرات واپس جانے کا سوال ہی نہیں ہے۔ میں مرکز کی سیاست میں ہی ہوں۔ میرا پہلا فرض ہے کہ 2019 کا لوک سبھا الیکشن بی جے پی اس بار سے بھی زیادہ اکثریت سے جیتے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز