مظفرنگر فساد زدگان 2013 سے معاوضہ کے انتظار میں: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

Sep 09, 2017 07:43 PM IST | Updated on: Sep 09, 2017 07:56 PM IST

نئی دہلی۔ حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے اترپردیش کے مظفر نگر اور شاملی اضلاع کے فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو چار سال گذرجانے کے باوجود معاوضہ نہیں ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ کنبوں کومعاوضہ کی رقم فوراَ ادا کی جائے اور عارضی کیمپوں میں رہنے والے خاندانوں کی رہائش، پانی، صفائی اور صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے ایمنسٹی نے کل یہاں جاری ایک رپورٹ میں کہا کہ کم از کم 200 خاندان جنھوں نے چار سال قبل اترپردیش کے مظفر نگر اور شاملی ضلعوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد اپنے گھروں کو چھوڑ دیا تھا انھیں ان سے وعدہ کیا گیامعاوضہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے اور وہ عارضی کیمپوں میں گندے حالات میں رہ رہے ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ 2013 کے فرقہ وارانہ تشدد میں کم از کم 60 افراد ہلاک اور50,000 سے زائد بے گھر ہوئے تھے۔اترپردیش حکومت نے ان خاندانوں کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن اپنے گاؤں سے بے گھر ہونے والے سینکڑوں خاندانوں کو ابھی تک کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہت سے لوگ اب بنیادی سہولیات جیسے پینے کے پانی، صفائی اور بجلی تک مناسب رسائی کے بغیر عارضی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

مظفرنگر فساد زدگان 2013 سے معاوضہ کے انتظار میں: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ

فساد زدگان: فائل فوٹو۔

' ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کی پروگرام ڈائریکٹر اسمتا بسو نے کہا''ان خاندانوں کو 2013 کے تشدد کے دوران اپنے گھروں اور اپنے تمام اثاثوں کو چھوڑنے کے لیے مجبور کیاگیاتھا۔ لیکن اترپردیش کی حکومتیں ان کی بازآبادکاری میں ناکام رہی ہیں،'۔ ''ریاستی حکومت نے سب سے پہلے فسادات کے متاثرین کو اپنے گاؤں واپس جانے میں مدد کرنے کے لیے سیکورٹی فراہم نہ کر کے اور پھر مکمل اور مناسب تلافی فراہم کرنے سے انکار کر کے انھیں مایوس کیا ہے۔ رہنے کے لیے کوئی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے، ان خاندانوں نے غیر سرکاری تنظیموں اور مذہبی اداروں کی مدد سے بحالی کالونیوں میں پناہ حاصل کی۔ لیکن اترپردیش حکومت نے دوبارہ بنیادی سہولیات فراہم نہ کر کے ان خاندانوں کو مایوس کیا ہے۔''

اگست 2016 اور اپریل 2017 کے درمیان، ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا اور شاملی میں واقع ایک این جی او، افکار انڈیا فاؤنڈیشن،نے 12 عارضی کالونیوں کا دورہ کیا، 65 خاندانوں سے ملاقات کی اور 200 خاندانوں کے دستاویزات کا تجزیہ کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے بہت سے ایسے خاندانوں سے بات کی جنھیں سرکاری حکام نے معاوضہ دینے سے منع کر دیا ۔ان متاثرہ خاندانوں کاکہنا تھا کہ سرکاری حکام مختلف بہانے بناکر انہیں معاوضہ کی رقم دینے سے اب تک محروم رکھا ہے۔ ان بحالی کالونیوں میں رہنے والے خاندانوں کی ایک بڑی اکثریت کو بنیادی خدمات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اندازہ ہے کہ مظفر نگر میں تقریبا 82 فیصد کالونیوں اور شاملی میں 97 فیصدکالونیوں میں محفوظ اور صاف پینے کا پانی موجود نہیں ہے، جبکہ مظفر نگر میں 61 فیصداور شاملی میں 70فیصدکالونیوں میں نکاسی آب کی سہولیات موجود نہیں ہیں۔

''ضلع مظفر نگر میں فساد کے متاثرین کے انصاف کی کمیٹی کے صدر محمد سلیم نے کہا کہ، ''بہت سی کالونیوں میں جہاں فسادات کے متاثرین رہتے ہیں، وہاں پانی، بجلی یا مناسب بیت الخلاء کی سہولیات موجود نہیں ہیں۔'' ''رات کے وقت عورتیں تنہا بیت الخلاء جانے سے گریز کرتی ہیں۔ وہ گروپ میں ایک ساتھ جاتی ہیں۔ یہاں بہت گندگی ہوتی ہے۔ یہاں مسلسل پانی جمع رہتا ہے اور مناسب نکاسی آب کی سہولت نہیں ہے۔ یہاں مچھر وں کی بھرمار ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ بہت بیمار ہوتے ہیں۔'' ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے اترپردیش کے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کو فوراَ معاوضہ اداکیا جائے اور عارضی کیمپوں میں رہنے والے خاندانوں کی رہائش، پانی، صفائی اور صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز