اے ایم یو نے کی ذیابیطس کی کامیاب دوا کی ایجاد، پیٹنٹ کرانے کی چل رہی ہے تیاری

Jul 19, 2017 07:12 PM IST | Updated on: Jul 19, 2017 07:12 PM IST

علی گڑھ ۔ ذیابیطس ایک موذی بیماری ہے جو عالمی سطح پردن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے جہاں بھی دیکھیں ذیابیطس کے مریضوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں ۔ ہندوستان میں بھی اس مرض پر قابو پانے کے لئے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسی تحقیق کی ضمن میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجمل خاں طبیہ کالج نے یونانی طریقہ علاج کے ذریعہ جڑی بوٹیوں سے اس مرض پر قابو پانے کا دعوی کیا ہے ۔

دوا کے موجد پروفیسر حکیم نعیم احمد خاں نے مذکورہ دوا سے کئی درجن ذیا بطیس کے مریضوں پرکامیابی حاصل کی ہے ۔ آج ذیابطیس کے مریض خاصی تعداد میں اجمل خاں طبیہ کالج پہنچ رہے ہیں اور فیضیاب ہو رہے ہیں۔ شعبہ علم الادویہ میں تیار ذیابطیس کی دوا گذشتہ چار ماہ سے مریضوں کومفت تقسیم کی جا رہی ہے ۔ یونانی طریقہ علاج ہندوستان کی قدیم روایات میں سے ایک ہے۔  آج جہاں دنیا دیگر پیتھی کی طرف گامزن ہے وہیں یونانی طریقہ علاج آج بھی اپنی منفرد شناخت بنائے ہوئے ہیں ۔ ایسے میں جب دنیا میں پھیل رہی موذی بیماریوں کا کامیاب علاج اس یونانی میں آجاتا ہے تو لوگوں کی توجہ اس طرف مزید مرکوز ہوجاتی ہے ۔ فی الحال یہی ہورہا ہے۔

اے ایم یو نے کی ذیابیطس کی کامیاب دوا کی ایجاد، پیٹنٹ کرانے کی چل رہی ہے تیاری

 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اجمل خاں طبیہ کالج کے شعبہ علم الادویہ کے پروفیسرحکیم نعیم احمد خاں ذیا بطیس جیسے موذی مرض پرعرصہ دراز سے ریسرچ کررہے ہیں ۔ انھوں نے 2013 میں مذکورہ مرض کے تعلق سے دوا بنانے کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ دوا کو پہلے مرحلے میں جانوروں پر استعمال کیا گیا اور دوسرے مرحلے میں انسانوں پر ۔ آج اے ایم یو میں تیار اس دوا سے متعدد مریض فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔

medicine

بتایا جا رہا ہے کہ  جڑی بیوٹیوں سے تیار اس دوا کے دوسرے سائد افیکٹ بھی نہیں ہیں، اس دوا کی خاص بات یہ ہے کہ شوگر کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ہی انسولین بنانے والے بیٹا سیل کو بھی پیدا کرتی ہے جس سے انسولین بننا شروع ہوجاتا ہے اور مرض ختم ہونے لگتا ہے۔ مریضوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے یہ گولیاں فی الحال  مفت تقسیم کی جا رہی ہیں ۔

amu, department

پروفیسر حکیم نعیم احمد خاں کے مطابق دوا کے کلینک ٹرائل کے مثبت نتائج کے بعد اب اس کو پیٹنٹ کرانے کی تیاری شروع کردی گئی ہے ۔ خود مریض کہتے ہیں کہ پہلے شوگر لیبل بڑھا رہتا تھا اب معمول پر ہے ۔ جب سے دوا کی شہرت ہوئی ہے تب سے اور مریضوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ لوگ دوا لینے کے لئے اجمل خاں طبیہ کالج پہنچ رہے ہیں اور پر اُمید ہیں کہ انھیں ضرور فائدہ ہوگا ۔ دوا لینےوالوں میں ڈاکٹر بھی شامل ہیں جو دوا کے تعلق سے اطمینا ن کا اظہار کررہے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز