کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ نظم و ضبط کے پابند نہ ہو: اے ایم یو پرووائس چانسلر

Jan 15, 2017 11:55 AM IST | Updated on: Jan 15, 2017 11:55 AM IST

نئی دہلی: کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ نظم و ضبط کے پابند نہ ہوں۔ یہ بات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر (بریگیڈیر ریٹائرڈ) سید احمد علی نے’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ابنائے قدیم:روایت اور اقدار ‘کے موضوع پر منعقدہ ایک پروگرا م سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ کوئی قوم اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب وہ نظم و ضبط کے ساتھ کام کرتی ہو اور وقت کا پا بند ہو اور ہندوستان کی فوج اس لئے کامیاب ہے کیوں کہ وہ انتہائی نظم و ضبط کا پابندی ہے۔ ہم لوگوں کو ہندوستانی فوج کی ڈسپلن کے معاملے میں سبق سیکھنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے طلبہ کی جو انسیت ہوتی ہے وہ دیگر یونیورسٹی کے طلبہ میں نہیں پائی جاتی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں جو علی گڑھ کی شناخت ہے وہ اسے دوسری یونیورسٹی سے ممتاز کرتی ہے اور شناخت اس لئے ہے کہ علی گڑھ میں تہذیبی روایت اور اقدار پر بہت زور دیا جاتا ہے۔

پرووائس چانسلر نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں جب کوئی آفت آتی ہے علی گڑھ کے طلبہ ، اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئرس وغیرہ ٹیم راحتی اشیاء کے ساتھ فوراَ پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے اس کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ گجرات کے کچھ اور اترراکھنڈ کے تباہ کن سیلاب میں فوج کے بعد سب سے پہلے پہنچنے والی ٹیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تھی۔

کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ نظم و ضبط کے پابند نہ ہو: اے ایم یو پرووائس چانسلر

انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ایک طبقہ کی طرف سے بدنام کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تمام ابنائے قدیم سے اپیل کی کہ جب کوئی منفی چیز علی گڑھ کے سلسلے میں سامنے آئے اس کی سخت مخالفت کریں اور صحیح پلیٹ فارم پر اس کا مثبت جواب دینے کوشش کریں۔انہوں نے علی گڑھ کی روایت اور تہذیبی اقدار کو علی گڑھ کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اے ایم یو کی شناخت ہے اور کسی حالت میں بھی اسے ترک نہیں کیا جانا چاہئے۔

مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو تمام لوگوں کے لئے یکساں مواقع کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہاکہ علی گڑھ میں کسی کے درمیان یا صنف کی بنیاد پر تمیز نہیں کی جاتی اور یہ علی گڑھ کی روایت رہی ہے کہ خواتین کو بہتر مواقع فراہم کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ والی ریاست بھوپال سلطان جہاں بیگم ہندوستان کی پہلی خاتون چانسلر علی گڑھ کی ہی تھیں۔

سابق رکن پارلیمان محمدادیب نے علی گڑھ کی تہذیب کو پامال نہ ہونے دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلم یونیورسٹی کی شاندار روایت رہی ہے کہ وہ ہر نئی چیز کو قبول کرتی ہے اور وہاں کی روایت میں تمام نئی چیز سما جاتی ہے۔ انہوں نے اس پہل کو ایک اہم کڑی قرار دیا۔ سرسید اسٹڈیز سنٹر کے چیرمین ایڈووکیٹ محمد اسلم خاں نے اس موقع پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ابنائے قدیم سے اپیل کی ہے کہ2020میں علی گڑھ کے اس ادارے کو مسلم یونیورسٹی کو بنے سو سال ہوجائیں گے اوراس کے بانی سرسید احمد کو سب سے اہم اور دلی خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ہم اس کے نام پر ایک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طرز پر ایک یونیورسٹی کے قیام کا عہد کریں۔ انہوں نے کہاکہ اس کے لئے سرسید کے طرز پر یونیورسٹی قائم کرنے کے لئے ایک کمیٹی کی تشکیل کریں۔

انہوں نے اس یونیورسٹی کے قیام کو وقت اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انبائے قدیم کے پاس ابھی دو تین سال کا وقت ہے اگر وہ عزم کرلیں تو اس یونیورسٹی کا قیام ممکن ہے اور علی گڑھین اس مقام پر فائز ہیں جوآسانی سے اس کے قیام میں مدد کرسکتے ہیں۔اس پروگرام کا اہتمام سرسید اسٹڈیز سنٹر نے کیا تھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈینٹ یونین کے صدر فیض الحسن نے علی گڑھ کے طلبہ کے کسی ایک طبقہ کے حق میں آواز اٹھانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اے ایم یو طلبہ یونین جہاں ایک طرف نجیب کے حق میں آواز اٹھاتی ہے وہیں روہت ویمولا، مدھیہ پردیش میں مارے گئے ہندو آئی پی ایس افسر کے حق اور دیگر طبقے کے حق میں آوازا ٹھائی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیشہ ہم ظلم کے خلاف رہے ہیں خواہ ظالم کوئی بھی ہو۔

اس کے علاوہ بصیر احمد خاں، ایم آئی ایم کے دہلی صدر عرفان اللہ خاں، خواجہ شاہد احمد، ندیم اسرار، اعظم بیگ، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈینٹ یونین کے نائب صدر ندیم انصاری، جنرل سکریٹری نبیل عثمانی، زیڈ کے فیضان شامل تھے۔سپریم کورٹ کے وکیل آن ریکارڈ مشتاق احمد علیگ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ علی گڑھ ہماری شناخت ہے اس کی ہر حال میں حفاظت کی جانی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز