گائے کے تحفظ کی آڑ میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف اے ایم یو طلبہ یونین کا احتجاج

Apr 13, 2017 10:22 PM IST | Updated on: Apr 13, 2017 10:22 PM IST

علی گڑھ : مسلم یونیورسٹی طلبہ یونین کی جانب سے ایک احتجاجی مارچ یونیورسٹی لائبریری سے ضلع کلکٹریٹ تک نکالا گیا ، جس میں گائے کے تحفظ کی آڑ میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ۔ طلبہ ہاتھوں میں بینراور پوسٹر لے کر یونیورسٹی لائبریری سے پرانی چنگی اور شمشاد مارکیٹ ہوتے ہوئے کلکٹریٹ تک پہنچے ، جہاں پہلے سے بڑی تعداد میں پولیس فورس موجو د تھی۔

اس موقع پر طلبہ لیڈران نے آر ایس ایس مردا آباد کے نعرے بھی بلند کئے۔ اس موقع پر صدرجمہوریہ ہند کےنام چھ نکاتی عرضداشت ضلع انتظامیہ کے سپرد کی گئی۔ کلکٹریٹ پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ یونین کے صدر فیض الحسن نے کہا کہ پہلے اخلاق، پھر منہاج اور اب الور راجستھان میں پہلو خان کو جس طرح شرپسند عناصر نے پیٹ پیٹ پر قتل کردیا ، وہ ملک کی جمہوریت اور سیکولرزم پر سوالیہ نشان ہے ۔

گائے کے تحفظ کی آڑ میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف اے ایم یو طلبہ یونین کا احتجاج

انھوں نے کہا کہ ملک میں دستور ہے ، پارلیمنٹ ہے ، اس کے ذریعہ ملک میں یکساں قانون بنے اور گائے کو قتل کرنے والے کو ضرور پھانسی کی سزا دی جائے، لیکن گائے بیچنے والے کو بھی نہ بخشا جائے ۔ ان پر بھی سخت کارروائی کی جائے ۔ طلبہ یونین کے صدر نے پاکستان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کلبھوشن یادو کی پھانسی کی سزا غلط بتاتے ہوئے وزیر اعظم مودی سے درخواست کی کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم کے یہاں جاکر جس طرح بریانی کھاتے ہیں ، اب جائیں اورکلبھوشن یادو کو واپس لائیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز