اے ایم یو طلبہ یونین الیکشن میں کشمیری طالب علم کی کامیابی اہمیت کی حامل

Dec 14, 2017 01:19 PM IST | Updated on: Dec 14, 2017 01:19 PM IST

علی گڑھ ۔ اے ایم یو طلباء یونین کی تاریخ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقی یو پی اور بہار کے طلبا لیڈروں کے ہاتھوں ہی طلبہ یونین کی کمان رہی ہے۔ لیکن اس بار طلبہ یونین میں کشمیری طالب علم کی کامیابی کو کافی اہم مانا رہا ہے۔ کیوں کہ اے ایم یو طلبہ یونین کی قیادت کو ملک میں  اہم مانا جاتا ہے۔ وہیں اس وقت کشمیر میں میں نوجوان سیاسی قائدوں کا فقدان ہے ۔ اس انتخاب سے جہاں مسلم یونیورسٹی کیمپس میں کشمیری طلباء کی خوشی دیکھنے کے لائق ہے ہیں وہیں نائب صدر کے لئے منتخب ہوئے شعبہ تاریخ سے پی ایچ ڈی کر رہے سجاد سبحان راتھر نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے موجودہ حالات کے خلاف آواز بلند کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔

انکا کہنا ہے کہ وہ طلباء کے مفاد میں ہر وہ کام کریں گے جس کی انھیں ضرورت ہے کیونکہ انکی کامیابی نہیں بلکہ یونیورسٹی کے 30 ہزار طلباء کی کامیابی ہے۔ انکا ماننا ہے کہ علی گڑھ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء میں وہ سبھی خوبیاں ہونی چاہئیں، جس کی موجودہ وقت میں ملت کو ضرورت ہے اور وہ اسکے لئے کام کریں گے ۔ وہیں ملک کی مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انھیں گھٹنوں کے بل یہاں آنا پڑیگا، ہم خود میں اتنی قوت رکھتے ہیں۔ ملک میں جہاں بھی غلط ہوگا اسکے خلاف پہلی آواز علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اُٹھے گی ۔ انھوں نے موب لنچنگ کے واقعات پر بھی کہا ہے کہ طلبا  کو بیدار کرنے کا کام کیا جائے گا اور حکومت وقت سے جواب طلب کیا جائیگا کہ وہ اس پر روک کیوں نہیں لگا پا رہی ہے ۔

اے ایم یو طلبہ یونین الیکشن میں کشمیری طالب علم کی کامیابی اہمیت کی حامل

وہیں کشمیر طالب علم کے نائب صدر عہدے پر فائز ہونے سے کشمیری طلبا میں بھی زبردست جوش وخروش نظر آرہا ہے۔ انکا ماننا ہے کہ یقیناً یہ کشمیری طلبا کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے اور تاریخ بھی ہے کہ یک مشت ہوکر سجاد کو کامیاب بنایا گیا ہے۔ اس کے لئے سبھی کشمیری طلبا اور علیگ برادری مبارکباد کی مستحق ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وقت کی ضرورت تھی کہ ایسی قیادت ابھرے جو بین الاقوامی مسائل پر سنجیدگی سے غور و فکر کر سکے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز