تین طلاق کے معاملہ پر ضمیر الدین شاہ کی ہندو مہا سبھا لیڈر سے ملاقات ، اے ایم یو طلبہ شدید برہم ، احتجاج

Apr 22, 2017 10:15 AM IST | Updated on: Apr 22, 2017 12:12 PM IST

علی گڑھ : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ تین طلاق کے معاملہ پر ہندو مہا سبھا کے لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد جہاں چوطرفہ تنقید کی زد پر ہیں ، وہیں انہیں اے ایم یو طلبہ کی بھی شدید مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خیال رہے کہ ضمیر الدین شاہ نے تین طلاق کے معاملہ پر ہندو مہا سبھا کی قومی سکریٹری پوجا شگن پانڈے سے ملاقات کی ہےاور تبادلہ خیال کیا۔

وائس چانسلر کی پوجا شگن پانڈے سے ملاقات کے بعد اے ایم یو طلبہ میں شدید غصہ ہے ۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے اس سلسلہ میں احتجاج بھی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تین طلاق جیسے مسائل پر ہندو تنظیموں کے ساتھ بات چیت مناسب نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مسلمانوں کے اندرونی مسائل میں کھلی طور پر مداخلت ہے۔

تین طلاق کے معاملہ پر ضمیر الدین شاہ کی ہندو مہا سبھا لیڈر سے ملاقات ، اے ایم یو طلبہ شدید برہم ، احتجاج

طلبہ نے کہاکہ وائس چانسلر خود چل کر ہندو مہاسبھا کی لیڈر کے پاس پہنچے۔ طالب علموں نے کہا کہ ہندو تنظیموں کی جانب سے اے ایم یو میں تین طلاق کے معاملہ پر وہ بحث کی مخالفت کریں گے۔ مذہبی معاملہ پر اے ایم یو کیمپس میں بحث نہیں ہونی چاہئے۔ تین طلاق کے سلسلہ میں وائس چانسلر یا ہندو مہاسبھا کتنا جانتی ہے؟ ۔ طالب علموں نے کہا کہ 'ان کو فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ عالم اور مذہبی رہنماؤں کو اس معاملے میں فیصلہ کرنا ہے۔

ادھر میٹنگ کو لے کر وائس چانسلر شاہ نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ہمارے لئے کوئی اچھوت نہیں ہے۔ یونیورسٹی کے فائد ےکے لئے کسی سے بھی بات چیت کر سکتے ہیں۔ ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ وہ طالب علموں کے جذبات کے ساتھ ہیں اور وہ ان کی مخالفت نہیں کر سکتے۔ شاہ نے کہا کہ 'ہندو مہاسبھا کے لوگوں کا کیمپس میں احتجاج ہو رہا تھا، اس لئے یونیورسٹی سے باہر بات چیت کر رہا ہوں۔

ادھر، ڈاکٹر پوجا شگن پانڈے کا کہنا ہے کہ تین طلاق کا مسئلہ عروج پر پہنچ گیا ہے، اے ایم یو اہم ادارہ ہے، ایسے انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ کھلی بات چیت کا مقصد پیغام کو دور تک پہنچانا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز