راج ببر اور سینئر صحافی عارفہ خانم کے ساتھ طارق منصور کا اسٹیج شیئر کرنے سے انکار اے ایم یو کیلئے سیاہ دن : تنویر عالم

Nov 15, 2017 11:30 PM IST | Updated on: Nov 15, 2017 11:30 PM IST

نئی دہلی: اے ایم یو الومنائی ایسوسی ایشن مہاراشٹر کے صدراور مشہور سماجی کارکن تنویر عالم نے علی گڑھ مسلم یونیونورسٹی کے وائس چانسلر طارق منصور کی مبینہ شرط کی، جس میں انہوں نے کانگریسی لیڈر راج ببر اور سینئر صحافی عارفہ خانم کے ساتھ اسٹیج اشتراک کرنے سے منع کیا ہے، مذمت کرتے ہوئے اے ایم یو کیلئے سیاہ دن قرار دیا۔انہوں نے آج یہاں جاری بیان میں دعوی کیا کہ متحدہ عرب امارات میں اے ایم یو الومنائی فورم کی جانب سے 17نومبر کو منعقد ہونے والے پروگرام کے منتظمین سے مبینہ طور پر مسٹر منصور نے کہا کہ ان لوگوں کے ساتھ اسٹیج اشتراک کرنے میں وہ ’ان کمفرٹیبل‘ محسوس کریں گے کیوں کہ وہ رولنگ پاور سے’ کلوز’ وائس چانسلر ہیں اور انہوں نے زور ڈالاکانگریسی لیڈر راج ببر اور صحافی عارفہ خانم کو اس پروگرام میں نہ بلائیں۔ جس کے بعد دعوی کیا گیا ہے کہ منتظمین نے دونوں سے وعوت نامہ واپس لے لیا۔

مسٹر تنویر نے عارفہ خانم کے فیس بک پوسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ چیزیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ میں سیاہ دھبہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ماضی میں ایسا کبھی نہیںہوا کہ اے ایم یو کے وائس چانسلر نے دوسری سیاسی جماعت یا دوسرے کے نظریہ والے لوگوںکے ساتھ اسٹیج اشتراک کرنے سے منع کیا ہو۔انہوں نے کہاکہ اے ایم یو الومنائی متحدہ عرب امارات یا دوسرے گلف ممالک میں قائم اے ایم یو الومنائی ماہرین تعلیم، سیاسی اور سماجی لیڈران کو سرسید ڈے یا دیگر پروگراموںکے موقع پر بلاتے رہتے ہیں اور تمام لوگ کسی وابستگی سے اوپر اٹھ کر اس میں شرکت کرتے ہیں۔ اس طرح کا واقعہ واقعی علیگ برادری کو شرمندہ کرنے والا ہے۔ جبکہ عارفہ خانم بھی علیگرین ہیں اور صحافت میں وہ اپنا مقام رکھتی ہیں۔

راج ببر اور سینئر صحافی عارفہ خانم کے ساتھ طارق منصور کا اسٹیج شیئر کرنے سے انکار اے ایم یو کیلئے سیاہ دن : تنویر عالم

انہوں نے الزام لگایا کہ وائس چانسلر طارق منصور کے اس قدم سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ کس طرح آر ایس ایس اور بی جے پی کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں اور بی جے پی آرایس ایس کے خوف سے کانگریسی لیڈر اور بی جے پی مخالف نظریات رکھنے والی صحافی کے ساتھ اسٹیج کے اشتراک کرنے سے منع کردیا۔انہوں نے کسی بھی یونیورسٹی کا وائس چانسلر صدر یا گورنر کا نمائندہ ہوتا ہے وہ کسی حکمراں یا حکمراںپارٹی کے ایجنٹ یا نمائندہ نہیںہوتا۔ ان کا کام صرف تعلیمی معیار بلند کرنا ، یونیورسٹی کو خوشگوارانداز میں چلانا اور طلبہ کی پریشانیوںکو حل کرنا ہوتا ہے۔

واضح رہے 17نومبر کو شارجہ میں ہونے والے پروگرام میں پروفیسر طارق منصور وائس چانسلر اے ایم یو، راج ببر کانگریس لیڈر،ظفر علی نقوی، سیف علی نقوی، ڈاکٹر ایس ے قدوائی اور صحافی عارفہ خانم کا نام دعوت نامہ اور پوسٹر میںتھا جسے بعد تبدیل کرکے ان دونوںکانام ہٹاکر دوسرے لوگوں کا نام شامل کردیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز