انتظامیہ کی عدم توجہی سے رسم ادائیگی تک محدود ہوئی میرٹھ کے قدیم نوچندی میلے کی پہچان

May 24, 2017 01:35 PM IST | Updated on: May 24, 2017 01:35 PM IST

میرٹھ۔  نوچندی میلہ میرٹھ کا قدیمی میلہ ہے ۔ گزشتہ ہزار سال سے جاری یہ روایت آج بھی برقرار ہے۔ ہولی کے دوسرے اتوار سے اس میلے کی رسمی شروعات کی روایت رہی ہے لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں یہ میلہ رسم ادائیگی کے دائروں میں سمٹ کر اپنی پہچان کھوتا جا رہا ہے۔  میرٹھ کا نوچندی میلہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی مثال رہا ہے۔ میلے کی قدیم روایت چنڈی دیوی مندر اور حضرت بالے میاں درگاہ سے وابستہ ہے لیکن گزشتہ کچھ برسوں میں یہ روایت محض کاروباری تقاضوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔ جانکاروں کے مطابق میلہ  انتظامیہ کی بدنظمی اور عدم توجہی سے میلے کی قدیم روایت اور رونق ختم ہوتی جا رہی ہے ۔ پہلے میلے میں جھولے، سرکس اور تفریح کے مختلف انتظامات کے علاوہ میلہ میدان کے پٹیل منڈپ میں مختلف ثقافتی پروگرام منعقد کیے جاتے تھے۔ نوچندی میلے کے دوران  جنکا سلسلہ بدستور جاری رہتا تھا لیکن اب ان ثقافتی پروگرام کا سلسلہ محض کچھ  پروگراموں کوی سمیلنوں  اور مشاعرے تک محدود ہوکر رہ گیا ہے ۔

برسوں سے میلہ نوچندی میں دکان لگانے والے دکاندار بھی اب میلہ انتظامیہ کے نظام سے ناخوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔  دکانداروں کے مطابق میلہ کمیٹی ہرسال کرایے میں غیرمعمولی اضافہ کرکے رقم تو وصول لیتی ہے لیکن سہولیات فراہم نہیں کراتی۔ یہی وجہ ہے کہ اب باہر کے دکانداروں کی دلچسپی بھی میلے میں کم ہو گئی ہے ۔ میرٹھ کے قدیم نوچندی میلے کا وجود سیکڑوں برس سے اس شہر کی مشترکہ تہذیب اور پہچان سے وابستہ رہا ہے۔  میلے کی پھیکی پڑتی رونق نہ صرف اس شہر بلکہ قدیم روایت کے لئے بھی نقصاندہ ثابت ہو رہی ہے۔

انتظامیہ کی عدم توجہی سے رسم ادائیگی تک محدود ہوئی میرٹھ کے قدیم نوچندی میلے کی پہچان

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز