عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش ، وسیم رضوی سے جان بوجھ کر دلوائے جارہے ہیں متنازع بیانات : انیس درانی

Nov 02, 2017 07:30 PM IST | Updated on: Nov 02, 2017 07:30 PM IST

نئی دہلی : مسلم انڈینز کونسل کے چیئرمین انیس درّانی نے بعض حلقوں کے اس خیال سے اتفاق کرتے ہوئے کہ اجودھیا معاملے میں بابری مسجد کامقدمہ کمزور کرنے اور ہندستانی عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ایک نہایت فتنہ پرور سازش رچی گئی ہے، آج کہا کہ چونکہ پانچ دسمبر سے مقدمہ کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی اس لئے مودی سرکار مبینہ طور پرعدالت کی رائے کو متاثر کرنے یا گمراہ کرنے کے لئے طرح طرح کے تماشے کررہی ہے۔

یہ دعوی کرتے ہوئے کہ اس کا مقصد عدالتی فیصلہ سے قبل ہی بابری مسجد کی وقف آراضی پر کسی ایسے رام جنم بھومی ٹرسٹ کے ذریعہ رام مندر کی تعمیر شروع کرادی ہے جو ہمیشہ سنگھ پریوار اور بھاجپا کا وفادارر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزی طور پر ایک صاف ستھرے ملکیت کے دیوانی مقدمہ کو الجھانے کے لئے شیعہ وقف بورڈ کے وسیم رضوی کے ذریعہ گمراہ کن بیا نات دیئے جارہے ہیں کہ اجودھیا مسئلے کے حل کا نیا فارمولہ تیار ہورہا ہے۔

عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش ، وسیم رضوی سے جان بوجھ کر دلوائے جارہے ہیں متنازع بیانات : انیس درانی

بابری مسجد، فائل فوٹو: گیٹی امیجیز

مسٹر درّانی نے پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کے اس بیان کا بھی خیر مقدم کیا ہے کہ بابری مسجد پر عدالت عظمی کا فیصلہ ہی قابل قبول ہوگا۔ مگر انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آخر بورڈ کے بعض طالع آزما ممبران ذاتی حیثیت سے بھی کیوں شری شری روی شنکر سے ملتے ہیں؟

انہوں نے پرسنل لاء بورڈ کے ممبران سے درخواست کی کہ وہ اب ذاتی حیثیت سے بھی مصالحتی عمل میں شامل نہ ہوں۔ اور عدالتی فیصلہ کا انتظار کریں۔ کیونکہ مصالحت کی ساری کوششیں سنگھ پریوار کے ’’فتنہ سازوں‘‘ کی ہیں جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ عدالتی فیصلہ کبھی ان کے حق میں نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز