میرٹھ میں شاہی عیدگاہ کے امام اورعیدگاہ کمیٹی نےعید کی نماز کے لئے الگ الگ وقت کا کیا اعلان

Jun 21, 2017 01:25 PM IST | Updated on: Jun 21, 2017 01:25 PM IST

میرٹھ ۔  میرٹھ کی شاہی عیدگاہ کے امام اور عیدگاہ کمیٹی کے درمیان آپسی اختلافات کا معاملہ ایک بار پھر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ پہلی مرتبہ عیدگاہ کمیٹی اور شاہی امام کے درمیان  نماز عید الفطر کے وقت کو لیکر اتفاق رائے نہیں ہو پایا  ہے ۔ دونوں ذمہ داران نے عید الفطر کی نماز کے لئے الگ الگ وقت کا اعلان کیا ہے جس سے یہاں کے مسلمانوں میں کافی بے چینی پائی جا رہی ہے ۔ شاہی امام نے جہاں صبح  پونے آٹھ بجے نماز کا وقت طے کیا ہے وہیں کمیٹی نے آٹھ بجے کا وقت طے کیا ہے ۔ حالانکہ پندرہ منٹ کا فرق کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے تاہم انتظامات اور فیصلوں  کو لیکر دونوں کے درمیان آپسی نااتفاقی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔

میرٹھ کی قدیم شاہی عیدگاہ میں تقریباً تین لاکھ مسلمان عید کی نماز ادا کرتے ہیں۔ اس کا انتظام عیدگاہ کمیٹی کے زیرنگرانی کیا جاتا ہے ۔ کچھ وقت پہلے پرانی عیدگاہ کمیٹی کے چیئرمین کے انتقال کے بعد وقف بورڈ کے ذریعہ نئی کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی اور پھرعیدگاہ کے انتظامات کو لیکر پرانی اور نئی کمیٹی میں اختلافات کا دور شروع ہو گیا ۔

میرٹھ میں شاہی عیدگاہ کے امام اورعیدگاہ کمیٹی نےعید کی نماز کے لئے الگ الگ وقت کا کیا اعلان

نئی کمیٹی کی تشکیل کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔  تاہم اقتداراورفیصلوں کو لیکر شاہی امام اور کمیٹی کے درمیان اختلافات کے معاملے سامنے آتے رہے اور سلجھتے بھی رہے ہیں ۔ لیکن نماز عید الفطر کے وقت کو لیکر اتفاق رائے نہ ہونے کا یہ معاملہ پہلی مرتبہ پیش آیا ہے ۔

 قاضی زین الساجدین ۔ امام ، شاہی عیدگاہ میرٹھ قاضی زین الساجدین ۔ امام ، شاہی عیدگاہ میرٹھ

عیدگاہ کمیٹی کے ذمہ داران جہاں اس معاملے پر اب کچھ کہنے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں شاہی امام عیدگاہ نے علیحدہ اعلان کو درست قرار دیا ہے۔ امام اور عیدگاہ کمیٹی کی اس باہمی رسہ کشی سے اب یہاں کے مسلمان پریشان ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے مفاہمت کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز