کشمیر :  والدین کی اپیل پر ایک اور نوجوان کا پسیجا دل ، تشدد کا راستہ چھوڑ لوٹا گھر، دو ماہ میں 7 ویں واپسی

جنوبی کشمیر میں ایک اور نوجوان نے مسلح عسکری گروپ سے ناطہ توڑ کر گھر واپسی اختیار کی ہے۔ وادی میں گذشتہ دو مہینوں کے دوران قریب 7 مقامی جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز کے سامنے خودسپردگی اختیار کی ہے

Dec 17, 2017 01:29 PM IST | Updated on: Dec 17, 2017 01:29 PM IST

سری نگر : جنوبی کشمیر میں ایک اور نوجوان نے مسلح عسکری گروپ سے ناطہ توڑ کر گھر واپسی اختیار کی ہے۔ وادی میں گذشتہ دو مہینوں کے دوران قریب 7 مقامی جنگجوؤں نے سیکورٹی فورسز کے سامنے خودسپردگی اختیار کی ہے، تاہم سیکورٹی اداروں نے اس رجحان کو گھر واپسی کا نام دیا ہے۔ ریاستی پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا مزید ایک نوجوان نے والدین کی اپیل پر تشدد کا راستہ چھوڑ کر گھر واپسی اختیار کی ہے‘۔ تاہم انہوں نے گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوانوں کی شناخت ظاہر کرنے سے اجتناب کیا۔

ریاستی پولیس نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں کہا ’بھٹکے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی ہماری کوششوں کے نتیجے میں حال ہی میں جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے والے ایک نوجوان نے تشدد کا راستہ ترک کرکے گھر واپسی اختیار کی ہے۔ گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان کی شناخت پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ میڈیا سے گذارش ہے کہ وہ اس کی سلامتی کو ملحوظ نظر رکھ کر کوئی شناختی تفصیلات شائع نہ کریں‘۔

کشمیر :  والدین کی اپیل پر ایک اور نوجوان کا پسیجا دل ، تشدد کا راستہ چھوڑ لوٹا گھر، دو ماہ میں 7 ویں واپسی

سری نگر کے لال چوک پرایک پولیس اہلکار تعینات ۔ فائل فوٹو

گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوان کا بھی تعلق جنوبی کشمیر سے ہی ہے۔ جنوبی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ایس پی پانی نے کہا ’جنوبی کشمیر پولیس کی کوششوں کے نتیجے میں ایک اور نوجوان قومی دھارے میں شامل ہوگیا ہے۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر مذکورہ نوجوانوں کی شناخت محفوظ کرلی گئی ہے‘۔ فوج کی ویکٹر فورس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میجر جنرل بی ایس راجو نے یو این آئی کو گذشتہ ہفتے بتایا ’سیکورٹی وجوہات کی بناء پر اب خودسپردگی اختیار کرنے والے جنگجوؤں کی تفصیلات منکشف نہیں کی جائیں گی‘۔

انہوں نے بتایا کہ خودسپردگی اختیار کرنے والے جنگجوؤں کو ان کی دلچسپی اور صلاحیتوں کے عین مطابق بحال کیا جائے گا۔ جنوبی کشمیر میں جنگجو بننے والے نوجوانوں کی گھر واپسی کا رجحان فٹ بالر سے لشکر طیبہ جنگجو بننے والے 20 سالہ ماجد خان عرف شان پولاک نے پیدا کیا۔ ماجد خان نے 16 نومبر کی شام کو ضلع اننت ناگ کے کھنہ بل میں واقع 1 راشٹریہ رائفلز (آر آر) کے کیمپ میں خودسپردگی اختیار کی تھی۔ ماجد کے والدین نے اسے ویڈیو پیغامات کے ذریعے واپس گھر آنے کی اپیل کی تھی۔ ماجدکی واپسی کے بعد متعدد دیگر مقامی جنگجوؤں کے والدین نے اپنے بیٹوں سے گھر واپسی کی اپیل کی تھی۔ ماجد کی گھر واپسی کے محض تین دن بعد جنوبی ضلع کولگام کے چمر دمہال ہانجی پورہ کے رہنے والے ایک 16 سالہ نوجوان نثار احمد ڈار نے 20 نومبر کو اپنے والدین کی اپیل پر پولیس کے سامنے خودسپردگی اختیار کی۔

نثار احمد نے رواں برس 27 ستمبر کو جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ماجد خان کی گھر واپسی کے بعد مزید والدین کی طرف سے اپنے جنگجو بیٹوں کو واپس گھر آنے کی اپیلیں جاری ہونے کے حوالے سے پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی حوصلہ افزاء رجحان ہے۔ میں دوسرے مقامی جنگجوؤں کی ماؤں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں سے واپس آنے کی اپیل کریں‘۔ ماجد خان کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اسپورٹس میں اپنا کیریئر بنانے کے لئے اپنے والدین نے وادی سے باہر بھیج دیا ہے۔ ماجد کی گھر واپسی کے فوراً بعد بھارت کے مشہور فٹ بالر اور سابق کپتان بائچنگ بھوٹیا نے ماجد کو نئی دہلی میں واقع بائچنگ بھوٹیا فٹ بال اسکول میں داخلہ دینے اور فٹ بال کی ٹریننگ فراہم کرنے کی پیشکش کردی تھی۔

لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت کے بعد ماجد خان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں اسے ایک اے کے 47 رائفل کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ تاہم جب یہ اطلاع ماجد کی والدہ عاشیہ بیگم کو ملی تو اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔ عاشیہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کے نور (ماجد خان) کے واپس آنے تک بھوکی رہے گی۔ وہ اپنے گھر آنے والے ہر ایک شخص سے کہتی تھی کہ وہ ’ماجد‘ کو واپس لانے میں اپنے طور پر مدد کرے۔ اس دوران ماجد کے والد ارشاد احمد خان کو 14 نومبر کو اس وقت دل کا دورہ پڑا جب اسے کہیں سے معلوم ہوا کہ اس کا بیٹا ضلع کولگام میں سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنس گیا ہے۔ تاہم ماجد کے سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسنے کی خبر صحیح نہیں تھی۔

ماجد خان کے والد اور والدہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کشمیر کے بیشتر سوشل میڈیا صارفین نے ماجد سے اپیل کی تھی وہ اپنے گھر کو واپس لوٹ آئیں۔ بعض صارفین نے ماجد کو اللہ اور اس کے رسول (ص)کا واسطہ دیکر اپنے گھر کو واپس لوٹنے کی اپیل کی تھی۔ جنوبی کشمیر کے قصبہ اننت ناگ میں کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ڈگری کالج اننت ناگ میں بی کام سال دوم کے طالب علم ماجد نے اپنے ایک قریبی دوست یاور نثار کی ہلاکت کے بعد جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔نثار نے جولائی 2017 ء میں عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی اور اسے گذشتہ ماہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک مسلح تصادم میں جاں بحق کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز