فراق گورکھپوری کے شاگرد ترقی پسند نقاد عقیل رضوی ہوئے 90 برس کے

Oct 13, 2017 08:07 PM IST | Updated on: Oct 13, 2017 08:07 PM IST

 الہ آباد۔ اردو میں ترقی پسند تنقید کی بنیاد ڈالنے والے بزرگ نقاد پروفیسر محمد عقیل رضوی  90؍ برس کے ہو گئے ہیں۔ فراق گورکھپوری اور پروفیسراعجاز حسین کے شاگرد رہےعقیل رضوی نے اپنی ادبی زندگی کے 70؍ سال اردو زبان و ادب کی خدمت میں گذارے ہیں۔ عقیل رضوی کا تعلق اس نسل سے ہے جس نے سجاد ظہیر، فیض احمد فیض اور مخدوم محی الدین کےدورکو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔

اردو میں ترقی پسند تحریک شروع کرنے والے افراد میں اب صرف گنے چنے افراد ہی باقی رہ گئے ہیں ۔ اردو ادب میں مارکسوادی اور ترقی پسند تنقید کی بنیاد ڈالنے والے بزرگ نقاد پروفیسر سید محمد عقیل رضوی نوے برس کے ہوگئے ہیں ۔ پروفیسر عقیل رضوی ان ادیبوں میں شامل رہے ہیں، جنہوں نے صرف اپنے کام پر بھروسہ کیا۔ عقیل رضوی کی  یہ بے نیازی ان کی منفرد  پہچان رہی ہے ۔

فراق گورکھپوری  کے شاگرد ترقی پسند نقاد عقیل رضوی ہوئے 90 برس کے

پروفیسر عقیل رضوی گذشتہ ستر برسوں سے اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں ۔ شعبہ اردو الہ آباد یونیورسٹی  میں انہوں نے چالیس برسوں تک اپنی  تدریسی خدمات انجام دی ہیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختلف موضوعات پر ایک درجن سے بھی زائد کتابیں لکھی ہیں ۔ان کتابوں میں پیش کی جانی والی تنقید پر ترقی پسند رجحانات کے اثرات صاف طور سے دیکھے جا سکتے ہیں ۔عقیل رضوی کا کہنا ہےکہ علم نہ تو کسی کی ذاتی جاگیر ہے اور نہ ہی اس کو کسی خاص طبقے میں قید کیا جا سکتا ہے ۔

اتنی طویل اورگراں قدر خدمات کے با وجود سید محمد عقیل رضوی کو ابھی تک کوئی بڑا اعزاز نہیں ملا ۔ اس سال مارچ میں غالب انسٹی ٹیوٹ نےعقیل رضوی کو خصوصی اعزاز سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ کئی اور ادبی اداروں نے وقتاً فوقتاً عقیل رضوی کو مختلف اعزاز سے نوازا ہے۔ عقیل رضوی کی تصنیفات کو اردو کے ترقی  پسند ادب میں ہمیشہ ایک اہم مقام حاصل رہے گا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز