تین طلاق بل : لوک سبھا میں بحث کے دوران ایم جے اکبر اور اسد الدین اویسی کے درمیان نوک جھونک

تین طلاق سے متعلق بل پر جمعرات کو لوک سبھا میں بحث کے دوران مرکزی وزیر ایم جے اکبر اور مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اسد الدین اویسی کے درمیان نوک جھونک دیکھنے کو ملی ۔

Dec 28, 2017 09:53 PM IST | Updated on: Dec 28, 2017 09:53 PM IST

نئی دہلی : تین طلاق سے متعلق بل پر جمعرات کو لوک سبھا میں بحث کے دوران مرکزی وزیر ایم جے اکبر اور مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اسد الدین اویسی کے درمیان نوک جھونک دیکھنے کو ملی ۔ مسلم خواتین(شادی کے مابعد حقوق کا تحفظ) بل -2017 پر بحث میں مداخلت کرتے ہوئے ایم جے اکبر نے شاہ بانو کیس کا حوالہ دیا تو اویسی نے ان کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ اس وقت آپ نے ہی اس قانون ( راجیو گاندھی کے وقت ) کو پاس کروایا تھا۔

اس پر ایم جے اکبر نے کہا کہ میرے دوست کو شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ 1989 میں کانگریس میں شامل ہوئے تھے ۔ ان کے اس بیان پر حکمرں پارٹی کے ارکان نے میز تھپتھپاکر ان کی سراہنا کی۔

تین طلاق بل : لوک سبھا میں بحث کے دوران ایم جے اکبر اور اسد الدین اویسی کے درمیان نوک جھونک

غور طلب ہے کہ شاہ بانو کیس 1985 کا ہے ۔ شاہ بانو کو اس وقت شوہر نے طلاق دیدیا تھا اور سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں متاثرہ کیلئے گزارہ بھتہ کا حکم دیا تھا ۔ اس حکم کے خلاف مسلم تنظیموں کی مخالفت کے بعد راجیو گاندھی حکومت نے اس کے خلاف قانون پاس کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز