اترپردیش : 26 سال بعد سیکنڈ لیفٹیننٹ کا کورٹ مارشل رد ، مرکز اور آرمی چیف پر 5 کروڑ روپے کا جرمانہ

Jan 20, 2017 12:56 PM IST | Updated on: Jan 20, 2017 12:58 PM IST

لکھنو : غلط طریقہ سے کورٹ مارشل کر کے جیل بھیجے جانے کے ایک معاملہ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ شتروگھن سنگھ چوہان کو 26 سال بعد جاکر انصاف ملا ہے۔آرمڈ فورسز ٹریبونل کی لکھنؤ بنچ نے جمعرات کو سیکنڈ لیفٹیننٹ شتروگھن سنگھ چوہان کو نہ صرف بے داغ قرار دیا ، بلکہ انہیں ملازمت پر بحال کرنے اور پروموشن دینے کا بھی حکم دیا۔

ٹریبونل نے مرکزی حکومت اور آرمی چیف پر 5 کروڑ کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ اتنا ہی نہیں جرمانے کی رقم میں سے 4 کروڑ روپے چوہان کو معاوضہ کے طور پر دینے کا بھی حکم دیا ہے۔ جرمانے کی بچی ایک کروڑ کی رقم کو فوج کے مرکزی بہبود فنڈ میں جمع کرانے ہوں گے۔

اترپردیش : 26 سال بعد سیکنڈ لیفٹیننٹ کا کورٹ مارشل رد ، مرکز اور آرمی چیف پر 5 کروڑ روپے کا جرمانہ

آرمڈ فورسز ٹریبونل کے عدالتی رکن جسٹس دیوی پرساد سنگھ اور انتظامی رکن ایئر مارشل جسٹس انل چوپڑا کی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ دراصل مین پوری کے رہنے والے شتروگھن سنگھ چوہان نے وزارت دفاع اور فوج کے سربراہ کے خلاف الزامات عائد کئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ راجپوت ریجمنٹ کے سیکنڈ لیفٹیننٹ چوہان سرینگر میں تعینات تھے۔ 11 اپریل 1990 کو بٹمالو مسجد کے لنگڑے امام کے یہاں سے سونے کے 147 بسکٹ برآمد کئے گئے تھے۔کرنل كےآر ایس پوار اور سی او نے شتروگھن سنگھ چوہان پر دباؤ ڈالا کہ وہ برآمد سونے کی بسکٹ کو دستاویزات میں ظاہر نہ کریں۔ اس معاملہ میں دیگر افسر ان بھی خاموش ہو گئے۔

اس کے بعد معاملہ کو پارليمانی کمیٹی کے پاس بھیجا گیا۔ فوجی ہیڈکوارٹر نے جانچ کروائی اور کورٹ آف انكوائري کا حکم دیا۔1991 میں شروع ہوئی کورٹ مارشل کی کارروائی میں چوہان کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز